پاکستان24 متفرق خبریں

تو پھر چیئرمین نیب کو بلا لیتے ہیں: احتساب عدالت

اگست 25, 2020

تو پھر چیئرمین نیب کو بلا لیتے ہیں: احتساب عدالت

لاہور میں احتساب عدالت نے مال مقدمہ میں شامل گاڑی نیب کے افسروں کے زیر استعمال ہونے کے خلاف درخواست پر احتساب بیورو کے علاقائی ڈی جی میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کو تین ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

منگل کو لاہور میں احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چودھری نے فیصل بینک کی جانب سے قومی احتساب بیورو کے افسران کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے نیب کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ نیب کے جن افسران کو طلب کیا تھا کیا وہ پیش ہو گئے ہیں؟

پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے بتایا کہ انچارج آر ڈی ایم سی فاروق اعظم اور تفتیشی وحید احمد چودھری پیش ہیں۔

جج جج امجد نذیر چودھری نے استفسار کیا کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کہاں ہیں؟۔

پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ ڈی جی نیب مصروف تھے اس لیے نہیں آئے، عدالت جب بلائے گی وہ آجائیں گے۔ عدالت کے پوچھنے پر کہ ڈی جی نیب کس نوعیت کے مصروف ہیں؟ پراسیکیوٹر نے جواب میں کہا کہ ‘نیب آفیشل ادارہ ہے، یوں ڈی جی نیب کی مصرفیات نہیں بتانا چاہتا۔’

جج امجد نذیر نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ تمام سرکاری اداروں میں تو روزانہ مصروفیات ہوتی ہیں، اور آفیشل ہی ہوتی ہیں۔

اس دوران درخواست گزار فیصل بینک کے وکیل نے کہا کہ وہ مال مقدمہ میں شامل بینک کی گاڑی نیب افسران کے زیراستعمال ہونے کے خلاف درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔ جس پر جج امجد نذیر چودھری نے ریمارکس دیے کہ کیوں نیب نے پریشر ڈال دیا ؟ بس ہوا نکل گئی؟ عدالت ایکشن لے تو آپ پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہی نہیں ہوتے۔

جج امجد نذیر چودھری نے احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ یہ بتائیں نیب مال مقدمہ کی گاڑی کیوں استعمال کر رہا ہے؟۔

نیب پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب گاڑی استعمال نہیں کر رہا۔ جج نے کہا کہ کیا ٹریکر کمپنی کا ریکارڈ غلط کہہ رہا ہے؟۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ٹریکر کمپنی کے ریکارڈ نے تو مسائل پیدا کئے ہیں۔


جج امجد نذیر نے پوچھا کہ کون سا قانون نیب کو مال مقدمہ کو ذاتی استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟۔ پراسیکیوٹر کا جواب تھا کہ ‘آفیشل استعمال تھا، مال مقدمہ کی گاڑی ذاتی استعمال تو نہیں ہوئی، مال مقدمہ کی گاڑی تو ریاست کی ڈیوٹی میں استعمال ہوئی۔’

جج نے کہا کہ پھر کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ مال مقدمہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مال مقدمہ کے استعمال پر قانون میں کہیں پر بھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔

جج امجد نذیر کا کہنا تھا کہ ‘اس کا مطلب تو پھر ہوا کہ گرفتار ملزموں کو نیب والے گھروں میں لے جائیں اور گھروں کے کام کروائیں؟ گاڑی کا حادثہ ہو جائے، گاڑی چوری ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔’

جج امجد نذیر چودھری نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ ڈی جی نیب کو کہیں کہ وہ 12 بجے پیش ہوں۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ‘آج مشکل ہوگا کیونکہ چیئرمین نیب لاہور آ رہے ہیں۔’ جس پر جج نے کہا کہ تو پھر چیئرمین کو نیب بلا لیتا ہوں۔’

جج امجد نذیر نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ نے عدالت میں ڈی جی کے نہ آنے کی وجہ بیان کی ہے، اب اگر چیئرمین نیب لاہور نہ آئے تو اس کے نقصان کے ذمہ دار آپ ہوں گے، عدالت نے جس کو بلانا ہے اس نے آنا ہے۔

جج امجد نذیر چودھری نے کہا کہ نیب جو چاہے کرتا رہے؟ مجھے بتائیں مال مقدمہ کے غلط استعمال پر عدالت کو نوٹس لینے کا اختیار ہے نا؟۔
پراسیکیوٹر نے جواب میں کہا کہ ‘جی جی، عدالت کو باقاعدہ اختیار ہے کہ مال مقدمہ کے ذاتی استعمال پر نوٹس لے۔’

جج امجد نذیر نے کہا کہ باقی بھی تمام کیسز میں رپورٹس منگواتا ہوں کہ مال مقدمہ کے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے۔
پراسیکیوٹر نے ایک بار پھر عدالت سے استدعا کی کہ مال مقدمہ کی گاڑی استعمال ہو رہی ہے مگر اس کا غلط استعمال نہیں ہو رہا، اس معاملے کو عدالت میں نہ سنا جائے۔

جج امجد نذیر نے بار بار مداخلت کرنے پر نیب کے پراسیکیوٹر پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کی طرف سے بہت ہو گیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ عدالت کو ڈکٹیٹ کریں، عدالت نے ابھی بہت نرم رویہ اختیار کیا ہے۔’

احتساب عدالت لاہور نیب کے ڈی جی شہزاد سلیم کو طلب کرتے ہوئے سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے