پاکستان پاکستان24

ابصار عالم پر مقدمہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش: ایچ آر سی پی

ستمبر 12, 2020

ابصار عالم پر مقدمہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش: ایچ آر سی پی

پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن نے معروف صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیے جانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ‘ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت کی جانب سے اختلاف رائے کرنے والوں کو دبانے اور اظہار رائے کی آزادی کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔’

صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم میں دینہ پولیس نے صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف ’سنگین غداری‘ کا مقدمہ ایک مقامی وکیل کی درخواست پر 11 ستمبر کو درج کیا۔

حکومتی پارٹی تحریک انصاف کے وکلا ونگ سے منسلک ایک عہدیدار نے درج کرائے مقدمے میں الزام عائد کیا ہے کہ ابصار عالم نے افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر ’انتہائی نامناسب زبان‘ استعمال کر کے ’آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری‘ کا ارتکاب کیا ہے۔

تحریک انصاف کے حامی انصاف لائرز فورم کے ایک عہدیدار کی درخواست پر دینہ پولیس نے درج کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’سابق چیئرمین ابصار عالم نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انہتائی گھٹیا زبان استعمال کی ہے‘۔

ابصار عالم نے اس مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ‘ایسے غداری کے مُقدمے تو اعزاز ہیں ایک فسطائی نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے۔ ہمیں تو مُشرف نہ دبا سکا تو میری جان، جنرل باجوہ، کس گُمان میں ہے۔’

سوشل میڈیا پر سینیئر صحافیوں نے ابصار عالم کے حق میں ٹویٹس کی ہیں۔ صحافی شکور رحیم نے لکھا ہے کہ ‘برسوں کی جاسوسی اور ہر طرح سے چھان پھٹک کرنے کے باوجود جب ابصار عالم کے خلاف کہیں سے کچھ بھی نہ مل سکا تو پھر وہی روایتی کام “انوں اندر کر دو” کی پالیسی اپنائی گئی۔’

شکور رحیم کے مطابق ‘ابصار صاحب کی شخصیت بے داغ رہی ہے اور اب بھی اس آزمائش میں سرخرو ہوں گے۔’

صحافی و تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے لکھا کہ ‘اگر ابصار عالم غدار ہے، تو ہم سب غدار ہیں۔ ہم خاموش نہیں ہوں گے۔’

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے