موٹر وے ریپ کیس میں نئے ملزم کا اعتراف جرم
پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار نے کہا ہے کہ لاہور – سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعہ میں خاتون سے زیادتی میں ملوث ایک ملزم شفقت علی گرفتار کیا گیا جس کا ڈی این اے میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔
پیر کو وزیراعلی نے ٹویٹ میں بتایا کہ ”مرکزی ملزم عابد علی کی گرفتاری کے لیے بھی ہماری ساری ٹیم مسلسل کوشاں ہے جس کی گرفتاری انشاء اللہ جلد متوقع ہے۔“
اس سے قبل پولیس حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ لاہور میں موٹروے پر خاتون سے ریپ کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے نئے ملزم شفقت نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
لاہور – سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعہ میں خاتون سے زیادتی میں ملوث شفقت علی گرفتار ہو چکا ہے، جس کا ڈی این اے میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے.
ملزم عابد علی کی گرفتاری کے لیے بھی ہماری ساری ٹیم مسلسل کوشاں ہے جس کی گرفتاری انشاء اللہ جلد متوقع ہے!— Usman Buzdar (@UsmanAKBuzdar) September 14, 2020
پاکستانی نیوز چینلز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے گزشتہ روز کیس میں گرفتاری دینے والے ملزم وقار الحسن کی نشاندہی پر دیپالپور میں کارروائی کے دوران شفقت نامی شخص کو حراست میں لیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم شفقت نے دورانِ تفتیش خاتون کے ریپ کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اور ملزم عابد ڈکیتی کی غرض سے موٹروے پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک کار کو خراب حالت میں دیکھا تو کار کے قریب گئے جہاں انہوں نے پہلے خاتون سے لوٹ مار کی اور پھر نیچے کھائی میں لے جاکر اس کا ریپ کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شفقت کا پہلے سے بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے اور وہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے بینک میں پہلے سے ڈی این اے موجود نہیں تھا تاہم پولیس کی جانب سے شفقت کا فوری ڈی این اے کرایا گیا جو میچ کر گیا۔
پولیس حکام نے میڈیاکے نمائندوں کو ان کیمرہ بریفنگ میں بتایا کہ ملزم شفقت ماضی میں بھی اجتماعی زیادتی کے واقعات میں ملوث رہا ہے لیکن پولیس کے پاس ملزم کا ریکارڈ نہیں تھا۔
پہلے گرفتار ملزم وقار الحسن نے کیا کہا تھا؟
قبل ازیں گزشتہ روز موٹر وے ریپ کیس میں خود گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن نے پولیس تفتیش میں ایک اہم انکشاف کیا تھا۔
وقار الحسن نے پولیس کو بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک عرصے سے شفقت نامی شخص کے ساتھ وارداتیں کر رہا ہے، شفقت بہاولنگر کا رہائشی اور عابد کا دوست ہے۔
وقار الحسن نے کہا تھا کہ مرکزی ملزم عابد سے رابطوں کے لیے استعمال کیے گئے ان کے نام موجود فون نمبر ان کے سالے عباس کے پاس ہے جس کے بعد وقار الحسن کے سالے عباس نے بھی گرفتاری دے دی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عباس نے شیخوپورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کیا۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر رات کے دو بجے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
اس واقعہ نے پاکستان میں لاکھوں شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ملک کے بڑے شہروں میں سینکڑوں افراد نے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کیے۔
واقعہ کی درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اس کی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔
کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث خاتون نے موٹروے پولیس اور اپنے ایک جاننے والے کو فون کر کے مدد طلب کی۔ موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ اس علاقے میں کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کے میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

