پاکستان

لاپتہ رپورٹر 22 گھنٹے بعد گھر واپس پہنچ گئے

اکتوبر 24, 2020

لاپتہ رپورٹر 22 گھنٹے بعد گھر واپس پہنچ گئے

راچی میں نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے وابستہ رپورٹر علی عمران لاپتہ ہونے کے 22 گھنٹے بعد گھر واپس پہنچ گئےہیں۔ ان کے اہلخانہ نے تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں سنیچر کی صبح سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے بازیابی کے لیے اجلاس کیا جبکہ وفاقی حکومت نے بھی لاپتہ صحافی کی بازیابی کے لیے کوشش کرنے کا بیان جاری کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ رپورٹر کو کیپٹن (ر) صفدر کے ہوٹل سے حراست میں لیے جانے کی ویڈیو آن ایئر کرنے پر اغوا کیا گیا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’کیپٹن صفدر کی جس انداز میں گرفتاری کی ہے اس سے آپ نے بہت زیادہ بدنامی کما لی ہے۔ اس طرح لوگوں کو اغوا کرکے حق اور سچ کی آواز دبا کر آپ مزید بدنامی نہ کمائیں۔‘

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی عمران علی سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سربراہ سے بات کی۔
ترجمان کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کی جلد بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے بھی صحافی عمران علی سید کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔
شبلی فراز نے لکھا کہ ’میں خلوص کے ساتھ امید اور دعا کرتا ہوں کہ عمران علی سید جلد اپنے اہلخانہ اور دوستوں کے ساتھ ہوں۔‘
سوشل میڈیا پر صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے صحافی کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز سے وابستہ رپورٹر عمران علی سید کی اہلیہ نے جمعے کی رات ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ان کے شوہر شام سے لاپتہ ہیں۔
اہلیہ کے مطابق عمران علی سید کا موبائل فون اور گاڑی گھر کے باہر کھڑی ہے اور وہ بتا کر گئے تھے کہ قریبی بیکری تک جا رہے ہیں آدھے گھنٹے میں واپس آ جائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے