پاکستان

مطیع اللہ جان اغوا کیس میں عدالت بے بس؟

اکتوبر 28, 2020

مطیع اللہ جان اغوا کیس میں عدالت بے بس؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کی تفتیش پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تفتیشی افسر بدلنے اور نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے نئی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔

عدالت نے حکم نامے میں لکھا کہ پولیس کو تفتیش کرنے کی سمجھ ہی نہیں آ رہی۔ آئی جی کسی اہل افسر کو تفتیش دیں یا کمیٹی بنائیں جو تفتیش کو اپنے پاس لے اور رپورٹ دے۔

مطیع اللہ کے اغوا کیس میں ان کے وکیل نے عدالت کی توجہ تفتیشی رپورٹ میں ایک بڑی غلطی کی جانب دلائی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ معاملہ بینچ دیکھے گا اور تفتیشی اداروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت والے کیس میں کیا کریں؟

مطیع اللہ جان کے وکیل بابر ستار نے کہا کہ عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم نے فرد جرم عائد کیا ہے؟ اگر نہیں تو کر دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ گزارشات کرنا چاہوں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم اس کو بھی ملتوی کر دیتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے