صرف 26 ماہ ہوئے، سوئچ نہیں کہ آن کرنے سے نیا پاکستان بن جائے: وزیراعظم
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ نہیں ہے کہ حکومت آئی، سوئچ آن ہوا اور نیا پاکستان بن گیا، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات ایک طویل جدوجہد کا نام ہے۔
بدھ کو لاہور کے ایوانِ اقبال میں پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ ڈاکٹروں کی تنظیم ’انصاف ڈاکٹرز فورم‘ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں صبر کرنا ہوگا۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے اس موقع پر کورونا کی دوسری لہر، خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں اصلاحات، صحت کارڈز، سنہ 1970 میں ادارے قومیانے کی پالیسی اور اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سمیت متعدد معاملات پر اظہارِ خیال کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل انصاف لائیرز فورم، تحریک انصاف کا شعبہ وکلا، سے خطاب کرنے پر سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔
پاکستان میں صحت اور تعلیم کے زبوں حال ڈھانچے اور اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ابھی 26 مہینے ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں عمران صاحب کدھر گیا نیا پاکستان۔ میں انھیں سمجھاتا ہوں کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ نہیں ہے، حکومت آئی، سوئچ آن ہوا اور نیا پاکستان بن گیا۔ پریوں کی کہانی میں ایسا ہوتا ہے لیکن اصل زندگی میں اصلاحات ایک جدوجہد کا نام ہے، ایک قوم جدوجہد کرتی ہے، تبدیلی کے لیے پوری قوم مل کر جدوجہد کرتی ہے تب تبدیلی آتی ہے۔‘

