پاکستان پاکستان24

جنگ گروپ کے مالک میر شکیل کی رہائی کا حکم

نومبر 9, 2020

جنگ گروپ کے مالک میر شکیل کی رہائی کا حکم

سپریم کورٹ نے نو ماہ سے گرفتار جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کو دس کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ضماںت پر رہاکر نے کا حکم دیا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

پیر کو سپریم کورٹ میں نیب کے پراسیکیوٹر نے میر شکیل الرحمان کی مشروط ضمانت پر رضامندی ظاہر کی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے میر شکیل کو نو ماہ قبل 34 سال پہلے خریدی گئی ایک اراضی کے ریفرنس میں گرفتار کیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر مارکیٹ ریٹ کے مطابق 14کروڑ پچیس لاکھ گارنٹی اور پاسپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرا دیئے جائیں تو ہمیں ضمانت پر اعتراض نہیں،یہ بھی یقین دہانی کرائی جائے زیر التوا ٹرائل میں تعاون کریں گے۔

جسٹس مشیر عالم نے کہاآگر آپ کو اعتراض نہیں ہم ضمانت دے دیتے ہیں،تفصیلی وجوہات ہم عدالتی حکمنامے میں جاری کریں گے۔

درخواست گزار میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز کا دلائل میں کہنا تھا کہ میرے موکل پر قومی خزانے کو ایک پینی کا بھی نقصان پہنچانے کا الزام نہیں ہے،میرے موکل کے خلاف ایل ڈی اے آج تک شکایت کنندہ نہیں،نہ ہی آج تک ایل ڈی اے نے میرے موکل کے خلاف کوئی کارروائی کی،میرے موکل پر الزام لگایا گیا کہ 4 کنال 12 مرلے اضافے زمین کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں دی گئی،میرے موکل نے اضافی زمین کی قیمت 1987 میں ادا کردی تھی،ادا کی گئی قیمت اس وقت کی پالیسی کے مطابق تھی،یہ پالیسی تمام لوگوں کیلئے تھی، صرف میرے موکل کیلئے نہیں،1989 تک مختلف لوگوں سے اضافی زمین کی قیمت وصول کی جاتی رہی،1989 میں ایل ڈی اے نے حکم دیا کہ آئندہ سے اضافی زمین کی مارکیٹ ویلیو ادا کرنا ہوگی،اب 34 سال بعد میر ےموکل کو ایک نوٹس جاری کیا گیا اور اس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا،میرشکیل الرحمان 9 ماہ سے جیل میں ہیں،نیب کہتا ہے کہ اضافی زمین کی مارکیٹ ویلیو ادا کی جائے،میرے موکل نے 1992 میں ایل ڈی اے سے نقشہ پاس کروایا تب بھی کوئی بقایا جات نہیں مانگے گئے،گھر کی تعمیر مکمل ہونے پر کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تب بھی کوئی بقایا جات نہیں مانگے گئے،رکارڈ میں ہے کہ آج تک میرے موکل سے اضافی پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ایڈوکیٹ امجد پرویز نے دلائل میں مزید کہا کہ اب اچانک نیب نے میرشکیل الرحمان کو بقایا جات کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا۔نیب کے وکیل نے کہا کہ ان پر گلیاں پلاٹ میں شامل کرنے کا الزام ہے۔ میر شکیل الرحمان کے وکیل بولےجن کو یہ گلیاں کہتے ہیں یہ وہی اضافی لینڈ ہے،اس وقت 1986 میں گلیاں تھیں ہی نہیں،ایل ڈی اے کا پلان 1990 میں منظور ہوا، 1987 میں گلیاں پلاٹ میں ڈالنے کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا نیب وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہامیرشکیل الرحمان نے جو دستاویزات دکھائیں یہ درست ہیں یا غلط؟۔ نیب وکیل نے جواب دیامیں اس معاملے پر دلائل دینا چاہوں گا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاآپ دلائل کے آغاز سے قبل یہ بتائیں کہ یہ دستاویزات درست ہیں یا نہیں؟ ۔ نیب وکیل نے جواب دیا کہ یہ دستاویزات درست ہیں،میرشکیل الرحمان سے اضافی رقم اس لیے نہیں مانگی گئی کہ اس وقت کے وزیراعلی نوازشریف ان سے ملے ہوئے تھے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکیا دوسرے لوگوں کو اضافی زمین اسی قیمت پر دی گئی یا نہیں؟۔ نیب وکیل نے جواب دیااس وقت اضافی زمین اسی قیمت پر دی گئی۔بنچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے کہاپہلے یہ بتائیں کہ کیا آپ نے کسی دوسرے پر بھی نیب کا مقدمہ بنایا،کیا اس وقت کسی اور سے بھی مارکیٹ پرائس لی گئی،کیا آپ نے کسی اور کو بھی نوٹس دیا کہ وہ اضافی رقم دے؟

نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا رکارڈ سے ایسا ثابت نہیں ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکرمنل لاء میں امتیاز نہیں ہے،یہاں پر تو لاء افسران کو بھی اضافی زمین ملی،کیا ان جوڈیشل افسران کے خلاف نیب کا مقدمہ بنایا گیا؟

نیب کے وکیل نے کہا جوڈیشل افسران کے خلاف نیب کا مقدمہ نہیں بنایا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہامیرشکیل الرحمان کے ہمراہ اس وقت کے ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈائریکٹر ایل ڈی اے کو بھی شریک ملزم بنایا گیا،گرفتار صرف میرے موکل کو ہی کیا گیا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہایہ بتائیں کہ ہم اس درخواست ضمانت پر فیصلہ جاری کریں؟ بہتر ہوگا کہ آپ درخواست ضمانت کی مخالفت نا کریں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہم لکھ کر دے دیتے ہیں کہ درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے،میرشکیل الرحمان کو پابند کیا جائے کہ وہ پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں،نیب کے ملزمان بیرون ملک جاکر واپس نہیں آتے،ریفرنس میں درج رقم جمع کروانے کی ہدایت بھی کی جائے۔

جسٹس قاضی آمین نے کہاہم 10 کروڑ روپے جمع کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔

عدالت نے بعد ازاں میرشکیل الرحمان کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیامیرشکیل الرحمان 10 کروڑ روپے گارنٹی اور پاسپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرائیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہاکیا نیب نے قومی خزانے کو نقصان کا کوئی سوال اٹھایا ہے۔ وکیل درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایک روپے کے نقصان کا سوال نیب نے نہیں اٹھایا،اس کیس میں ایک نجی شخص نے شکایت کی ہے۔

جسٹس قاضی آمین نے کہا اینکرز اور تجزیہ کار عدالتوں کو نہ بتائیں ہم نے کیا کرنا ہے،فیصلے عدالتوں نے کرنے ہیں تنخواہ دار تجزیہ کاروں نے نہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے