پاکستان پاکستان24

سزایافتہ کو باہر جانے کی اجازت حکومت نے دی الزام عدالت پر لگا: ہائیکورٹ

نومبر 19, 2020

سزایافتہ کو باہر جانے کی اجازت حکومت نے دی الزام عدالت پر لگا: ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی اشتہاریوں کی تقاریر نشر کرنے سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار ہیومن رائٹس کمیشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔

جمعرات کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وکیل سے پوچھا کہ وہ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں، اس کیس فیصلے کا کسی کو تو فائدہ ہوگا، جنرل پرویزمشرف کیس میں پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حالیہ سالوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا، یہ بہت سنجیدہ سوال ہے، پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔

”درخواست گزار بتا دیں کہ کس کے لیے ریلیف چاہ رہے ہیں، پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے۔؟

وکیل نے کہا کہ  پیمرا نے کسی کے خلاف آرڈر پاس نہیں کیا۔

جسٹس اطہر نے کہا کہ یہاں پر موجود درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، اس آرڈر سے دو لوگ متاثر ہیں۔

وکیل نے کہا کہ دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو متاثرہ فریق ہے وہ پیمرا کے حکم کے خلاف اپیل کرسکتا ہے، درخواست گزار کس مفرور کا انٹرویو آن ائیر کروانا چاہتے ہیں، اس طرح تو پھر تمام مفرور ملزمان کو اجازت دی جائے؟ مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے۔

وکیل نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، انفارمیشن تک رسائی کا ہمارا حق متاثر ہورہا ہے۔

عدالت کے مطابق مفرور ملزم پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کریں پھر وہ قانونی حقوق سے فائدہ اٹھائیں، مفرور ملزم خود عدالت سے رجوع نہیں کررہے، مفرور ہونا بہت سنجیدہ بات ہے۔

وکیل نے کہا کہ آرٹیکل انیس اے آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے۔

عدالت کے مطابق پھر ہر مفرور چاہے گا اسے آن ائیر ٹائم دیا جائے، حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا۔

جسٹس اطہر کے مطابق عدالت پیمرا کا آرڈر منسوخ کرتی ہے تو تمام مفرور کو آن ائیر جانے کا حق ملے گا، عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی، یہ سوال عدلیہ پر اعتماد کا ہے، یہ عدالت مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی، غیرقانونی حکم کو بھی کوئی مفرور کہیں چیلنج نہیں کرسکتا۔

عدالت نے کیس کی سماعت سولہ دسمبر تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے