صحافیوں کا اغوا: کیا وزیراعظم کو کچھ نہیں معلوم؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران تین نجی ٹی وی چینلز کو انٹرویوز میں ملک کے اندر شہریوں اور صحافیوں کے اغوا پر مختلف موقف سامنے آئے ہیں۔
اے آر وائے، جی این این اور اب ایکسپریس نیوز کو انٹرویوز میں عمران خان نے صحافیوں کے اغوا پر کیے گئے سوالات کے جواب میں کہا کہ ان کے نوٹس لینے کے بعد لاپتہ ہو جانے والے صحافی واپس آ گئے۔ جبکہ قبل ازیں الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم نے بتایا تھا کہ ان کی حکومت میں جبری گمشدگیوں اور اغوا کے واقعات نہیں ہوئے۔
سنیچر کی شام ایکسپریس نیوز کے اینکر منصور علی خان کو انٹرویو میں عمران خان نے سوال کے جواب میں کہا کہ صحافی مطیع اللہ جان اور دوسرے ان کے نوٹس لینے کے بعد واپس آ گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے تحقیقات کرائیں کہ ان کو کس نے اغوا کیا تھا تو وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے ان کو علم نہیں، اور یہ معاملہ وزیر داخلہ دیکھ رہے تھے۔
میڈیا کا جمہوریت میں ایک اہم کردارادا ہوتا ہے، میڈیا سےتب شکایت ہوتی ہےجب وہ پراپیگنڈا مہم چلاتا ہے، جب غلط الزامات لگاتا ہے، آزادی کےساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے؛ دیکھئےوزیراعظم عمران خان کی دلیل @ImranKhanPTI
*Team MAK* pic.twitter.com/TwLn6ldjAc— Mansoor Ali Khan (@_Mansoor_Ali) November 28, 2020
وزیراعظم کے الفاظ تھے کہ ‘پہلے تو مجھے ان میں سے کسی کا بھی آئیڈیا نہیں کہ یہ کیا ہوا؟ یعنی مجھے نہیں سمجھ۔ میرے خیال سے مطیع اللہ جان یا کسی پر تو میں نے فورا، جب ہمیں پتہ چلا تو فوری طور پر تحقیقات کرائیں۔’
وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ پتہ تو چلے کہ کون لے گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ سے اس کی رپورٹ طلب کی تھی وہی معاملہ دیکھ رہے تھے۔
عمران خان کے ان جوابات پر سوشل میڈیا صارفین سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم کو کسی بات کا علم بھی ہے؟ اور کیا اتنے اہم واقعات سے ملک کے وزیراعظم کی لاعملی کی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کار طلعت حسین نے وزیراعظم کے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شیئر کر کے اس پر طنزیہ طور پر ہنسنے کی ایموجیز لگائی ہیں۔
صحافی مطیع اللہ جان نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم کو ٹیگ کر کے لکھا ہے کہ ‘میرے اغوا سے متعلق آپ کے انٹرویوز مجھے بطور پاکستانی شرمندہ کرتے ہیں۔’
انہوں نے اپنے اغوا سے متعلق سوال پر وزیراعظم کو جواب تجویز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘مناسب جواب تجویز ہے کہ، “دیکھیں __ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، پولیس /جے آئی ٹی اسکی تفتیش کر رہی ہے، حکومت نے کمیٹی بھی بنائی ہے، میرا بیان دینا مناسب نہیں، پولیس کوتفتیش مکمل کرنے کا کہا ہے۔”

