وزارت داخلہ کی سیاسی جماعتوں کے جتھوں کے خلاف ایکشن کی ہدایت
پاکستان میں وفاقی وزارت داخلہ نے بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے اپنی ملیشیا فورس بنانے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو مراسلے کے ذریعے ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وزارت داخلہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل نیشنل ایکشن پلان کی شق نمبر3اور آئین کے آرٹیکل 256کی خلاف ورزی ہے۔
وزارت داخلہ نے قانون کی خلاف ورزی پر وارننگ بھی جاری کی ہے۔
صوبوں کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مختلف جماعتوں کے ملیشیامسلح افواج جیسی وردی اور رینکس لگاتے ہیں۔ ان چیزوں پرکنٹرول نہ کیا گیا تو سیکیورٹی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مراسلے کو حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نیوز چینل سے گفتگو میں مولانا نے اپنی جماعت کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو رضاکار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تنظیم قانون کے دائرے میں کام کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ نے مراسلے میں کہا ہے کہ اس معاملے سے ملک کا دنیا میں منفی تاثر ابھرے گا۔ ایسی تنظیمیں غلط مثال قائم کررہی ہیں۔تمام صوبائی حکومتیں فوری اس بات کا نوٹس لیں، تمام صوبائی حکومتیں اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔ وفاقی حکومت اس معاملے میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔

