جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ سرینہ نے عدالت کو کیا بتایا؟
جسٹس فائز کی نظرثانی درخواست کتنے ججوں پر مشتمل بینچ سنے گا؟
منگل کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے چھ ججوں پر مشتمل بینچ نے جسٹس فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواست کی۔
جسٹس فائز کی اہلیہ سرینہ نے عدالت میں کہا کہ بینچ نے ججوں کے احتساب کی بات کی مگر اس کے لیے مجھے اور میرے بچوں کا انتخاب کیا گیا؟ ہم تو ججز نہیں۔
مسز فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے کر غلطی کی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا چھ رکنی بینچ سات رکنی بینچ کے فیصلے کی نظر ثانی سن سکتا ہے؟
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست پر عدالت عظمیٰ کے دس رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا جن میں سے ساتھ ججز نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم سنایا تھا۔
سات ججوں میں سے جسٹس فیصل عرب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ فیصلے سے اختلاف کرنے والے تین ججوں کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔
قبل ازیں سماعت کے آغاز پر مسز فائز عیسی نے کہا تھا کہ ‘چیف جسٹس گلزار حمد اس کیس میں فریق ہیں۔ اور ان کو بینچ کی تشکیل نہیں کرنا چاہیے تھی۔’
جسٹس عمر عطا بندیال نے مسز فائز عیسیٰ کو بات مکمل کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ‘آپ چیف جسٹس پاکستان پر الزام لگا رہی ہیں۔ آپ ہماری فیملی کا حصہ ہیں۔‘
جسٹس بندیال کا کہنا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کیس کے دوران بینچ کی تشکیل کے حوالے سے چیف جسٹس پر الزام لگایا جائے۔ ادارے اور اس کے سربراہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محتاط رہیں۔ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کا انتظامی اختیار ہے۔‘
مسز فائز عیسیٰ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی جج کی دل آزاری نہیں تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ وہ بینچ کی تشکیل کے خلاف درخواست سن رہے ہیں۔ جس انداز میں سوالات اٹھائے یہ طریقہ درست نہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ عدالت میں انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے جبکہ بینچ کے سربراہ نے وکیل سے کہا کہ وہ کوئی کرشمہ یا جادو دکھائیں تب ہی بات بنے گی۔
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ ’اگر نو جج نظرثانی کیس سنیں تو اس میں نقصان کیا ہے؟ وکیل کا کہنا تھا کہ یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ انصاف نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر احتساب سے خوفزدہ نہیں مگر درخواست ہے کہ اس مقدمے کے تمام مدعا علیہان (وزیراعظم، صدر، وزیر قانون، مشیر داخلہ) کو بھی کہا جائے کہ وہ اپنی جائیدادوں اور ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیل سامنے لائیں۔
جسٹس فائز کی اہلیہ نے کہا کہ ملک کے تمام ججوں، جرنیلوں اور سیاست دانوں کے اثاثوں کی تفصیل سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کی جائے۔
سرینہ عیسیٰ نے کہا کہ وہ جذباتی ہو رہی ہیں۔ ان کو عدالت نے پہلے بھی نہیں سنا، بتایا جائے کہ بینچ میں دیگر تین ججوں کو شامل کیوں نہیں کیا گیا؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب کیس کا فیصلہ ہوگا تو اس حوالے سے بھی بتایا جائے گا۔
عدالت میں وکلا منیر اے ملک، حامد خان، رشید اے رضوی اور لطیف آفریدی نے درخواست سننے کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے دلائل دیے۔
بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ جمعرات کو کیا جائے گا۔

