پاکستان

شوکت صدیقی کی درخواست پر سماعت: اعتراضات کیا ہیں؟

دسمبر 9, 2020

شوکت صدیقی کی درخواست پر سماعت: اعتراضات کیا ہیں؟

سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کیخلاف شوکت عزیز صدیقی کی اپیل پر سماعت کیس کی سماعت اگلے سال جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار آفس اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی بار کی درخواستوں پر اعتراضات پر وکلاء کو آگاہی نوٹس جاری کرے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بڑا کیس ہے، چاہتے ہیں وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں، بینچ اگر چار ممبرز سے زیادہ ہو تو روٹین کیسز متاثر ہوتے ہیں۔

ایڈووکیٹ حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، چاہتے ہیں کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔

کراچی بار کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا ہماری درخواستیں مقرر نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں۔ کراچی بار کے وکیل بولے اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواست دائر ہو سکے۔

اسلام آباد بار کے وکیل نے کہا کہ میری ترمیمی درخواست بھی مقرر نہیں کی گئی۔

عدالت نے قرار دیا تمام درخواست گزاروں کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا جائے گا. سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو 11 اکتبور 2018 کو حساس اداروں کیخلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے