کالم

پاکستان میں ساکھ کسی کی نہیں اور بحران گھمبیر

دسمبر 12, 2020

پاکستان میں ساکھ کسی کی نہیں اور بحران گھمبیر

اپوزیشن کی حالیہ تحریک (ڈیموکریٹک موومنٹ) سے بھی پاکستان کو کوئی افاقہ نہیں ہونے والا کیونکہ یہ دائرے کا سفر ہے، عمران خان جو کچھ اپوزیشن میں کر رہے تھے وہی کچھ اپوزیشن اس وقت کر رہی ہے اور پچھلی حکومت کا اپوزیشن کی تحریک پر جو موقف تھا وہی عمران خان کا ہے، یعنی اس سے معیشت کو نقصان ہوگا، افراتفری پھیلے گی۔

عمران خان نے کسی طبقے کو بھی ریلیف نہیں دیا، تنخواہ دار سے لے کر کاروباری تک سب کو برباد کر دیا، کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے لے گیا اور متوسط طبقے کو تقریباً معدوم ہی کر دیا۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ اس تحریک کے نتیجے میں عمران کی حکومت گر جاتی ہے تو بھی اگلے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار اہم ہی رہے گا اور وہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے سے باز نہیں آئے گی۔
اقتدار سے محروم رہنے والا ان پر ویسے ہی الزام لگائے گا جیسے آج لگ رہے ہیں۔

بفرض محال اگر اسٹیبلشمنٹ اپنی ان حرکات سے باز آ بھی جاتی ہے جو وہ قیام پاکستان سے آج تک کرتی رہی تو بھی شاید اس کا داغدار ماضی پیچھا کرتا رہے گا۔
اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی کریڈیبلٹی کا بحران ہے جو نہ سیاستدانوں کی ہے، نہ فوج کی، نہ عدلیہ کی اور نہ ہی میڈیا کی۔

میڈیا میں ایک بات تواتر سے کوٹ ہوئی ہے کہ جنرل فیض حمید نے خاور گھمن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نیشنل گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، اگر یہ بات درست بھی ہے تو بھی یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں سب سے بڑا کردار بھی انہی صاحب کا ہے جنہوں نے یہ بات کی۔

اگر آپ بلوچستان اسمبلی میں نون لیگ پر لگنے والی نقب، سینیٹ چئیرمین الیکشن میں ایک غیر معروف پٹھو کی فتح پر جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے منائے ہوئے جشن، نواز شریف کو کرائی گئی یقین دہانیوں، ان کے ملک سے نکلنے کے واقعات اور بعد ازاں مریم نواز پر نیب کے کریک ڈاون کو دیکھیں تو یہ بات باآسانی سمجھ آجائے گی کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس دوران جو یقین دہانیاں پی پی اور نون کو کروائی تھیں وہ ان کو پورا نہیں کر سکی اور یقینی طور پر اگر کوئی گرینڈ ڈائیلاگ ہوتا بھی ہے تو اسٹیبلشمنٹ بہت کمزور وکٹ پر کھیل رہی ہوگی۔

عمران خان ایک بہت کمزور جگہ پر اس لیے ہیں کہ پچھلے اڑھائی سال میں وہ کسی بھی طبقے کو ریلیف نہیں دے سکے اور ان کے اپوزیشن کے دوران کئے گئے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور کی حمایت میں شدید کمی آئی ہے۔

پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ ایک لارجر این آر او ہے جس میں تمام فریقین اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور آیندہ کے لئے ایک لائحہ عمل بنے کہ کیسے اس ملک کو چلانا ہے، پانچ سال کے اندر اندر ملک سے باہر موجود پیسہ پاکستان میں لا کر انڈسٹری میں انویسٹ کیا جائے گویا ایک لارجر پارڈن دینے سے ہی یہ گاڑی پٹڑی پر چڑھنے کا امکان ہے۔

آئیڈیلسٹک لوگوں کو یہ باتیں سمجھنے میں خاصی دقت تو ہوگی لیکن ان کے پاس بھی کوئی حل موجود نہیں ہے۔
پاکستان کی موجودہ قیادت کوتاہ بین ہے اس لیے آپ اس دائرے کے سفر کو انجوائے کریں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے