پاکستان پاکستان24

سینیٹ الیکشن کا صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ اس تنازعے میں کیوں مداخلت کرے؟

جنوری 4, 2021

سینیٹ الیکشن کا صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ اس تنازعے میں کیوں مداخلت کرے؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور اسمبلیوں کے سپیکرز کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’ آپ کےمطابق آئین، قانون کے تحت انتخابات کا مختلف طریقہ کار ہے۔ ’میثاق جمہوریت میں سیاسی جماعتوں نے ووٹوں کی خرید وفروخت روکنے پر اتفاق رائے کیا تھا۔ اس معاملے پر حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے مابین قومی اتفاق رائے کیوں پیدا نہیں کرتی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے ایک آئینی ترمیم کا بل پیش کیا ہے۔
جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ حکومت کا ریفرنس قابل سماعت ہے یا نہیں، یہ سوال موجود ہے۔ آئین کا آرٹیکل 66 کہتا ہے کہ مقننہ کے امور عدالتوں میں زیربحث نہیں لائے جا سکتے۔ سپریم کورٹ اس تنازعے میں کیوں مداخلت کرے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ اگر آئین کہے کہ الیکشن خفیہ بیلٹ سے کرایا جائے تو ماتحت قانون اسے کیسے تبدیل کر سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئین نے قومی اسمبلی کے الیکشن کے لیے قانون سازوں پر انحصار کیا ہے۔

عدالت نے تمام متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر کے رائے طلب کی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں سے کیس میں فریق بننے کے لیے اخبار میں اشتہار جاری کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

مقدمے کی سماعت اگلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے