پاکستان پاکستان24

سپریم کورٹ: میشا شفیع کی درخواست پر علی ظفر سے جواب طلب

جنوری 11, 2021

سپریم کورٹ: میشا شفیع کی درخواست پر علی ظفر سے جواب طلب

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی جنسی ہراسانی کے کیس میں اپیل کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور ان کی درخواست جنسی ہراسانی کی تعریف کے ازخود نوٹس کے ساتھ منسلک کرکے سننے کی ہدایت جاری کی۔

پیر کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی  بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کی۔

عدالت نے مدعا علیہ علی ظفر اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کیا۔

سپریم کورٹ میں میشا شفیع کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہراسانی کی شکایت صرف متعلقہ ادارے کے ملازمین کر سکتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ ہراسانی قانون کے تحت کسی کے خلاف شکایت کے لیے شکایت کنندہ کا اس کا ملازم ہونا ضروری نہیں، تعلیمی اداروں میں بھی ہراسانی کا قانون لاگو ہوتا ہے۔

علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو اس مرحلے پر نہ دیکھے، وفاقی محتسب اور لاہور ہائیکورٹ میشا شفیع کی درخواست خارج کرچکے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کیس کا فیصلہ نہیں کررہے، صرف قانونی نکات کی وضاحت کے لیے نوٹس کیا ہے، جو نکات اٹھائے گئے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے، میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں۔

عدالت نے کیس کو جنسی ہراسانی کی تعریف کے لیے گئے ازخود نوٹس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جنسی ہراسانی کی تعریف طے کرنے کے لیے ازخودنوٹس لے رکھا ہے جو زیرالتوا ہے۔

واضح رہےکہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ میشا شفیع علی ظفر کی ملازمت میں نہیں تھیں۔

قبل ازیں گورنر پنجاب نے تکنیکی بنیادوں پر میشا شفیع کی ہراسانی درخواست مسترد کی تھی اور ان کے فیصلے کو سیشن کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے