اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن: ”سوال قانونی، مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے“
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے ذریعے کرانے کے لیے دائر حکومتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال قانونی، نچوڑ اخلاقیات پر مبنی ہے جبکہ یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے،حکومت عدالت کے بجائے آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ سے کیوں رجوع نہیں کرتی ؟
یہ ریمارکس جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنیعدالتی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ پیپرز کے سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی ۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی اور اٹارنی جنرل کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے کہا حکومتی ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال قانونی،نچوڑ اخلاقی جبکہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا ہے ،حکومت عدالت سے کیوں رائے مانگ رہی ہے، پارلیمنٹ سے رجوع کرے۔
اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ میں ایسی گیارہ مثالیں دے سکتا ہوں جن میں سپریم کورٹ نے سیاسی پہلوئوں کی موجودگی کے باجود فیصلوں میں آئین کی تشریح کی ،سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے مقدمات میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے سیاستدانوں کو نااہل کیا، اراکین پارلیمنٹ کے اثاثے ظاہر کرنے کا معاملہ سیاسی تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس پر بھی قانون کی تشریح کی۔
اٹارنی جنر ل نے مزید کہا حکومت سپریم کورٹ میں صرف رائے لینے آئی ہے،اگر سپریم کورٹ کی رائے ہمارے حق میں بھی آ جائے حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے سے متعلق قومی اسمبلی کی قرارداد بارے سپریم کورٹ رائے چکی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا آپ کی بنگلہ دیش والی دلیل درست ہے۔اٹارنی جنرل بولے اگر بات وہاں درست تھی تو پھر یہاں بھی ٹھیک ہے، حکومت ووٹوں کی خریدوفروخت روکنے اور شفافیت کے لیے سپریم کورٹ آئی ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ آپ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت صرف آرٹیکل 226 کی تشریح کرے؟ ۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں اپنی بات اس سے زیادہ سادہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اٹارنی جنرل نے دلائل میں مزید کہا کہ جہاں آئین میں انتخابات کرانے کا طریقہ کار طے ہے وہ الیکشن آئین کے تحت تصور ہونگے،جب سینیٹ کے لیے ایم پی اے کا ڈالا گیا ووٹ آزاد نہیں ہو سکتا تو پھر بیلٹنگ خفیہ بھی نہیں ہو سکتی۔
جسٹس اعجا زالااحسن نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرکے خفیہ ووٹ کے ذریعے کسی اور سینیٹر کو ووٹ ڈالنا بدیانتی ہے، پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے ایم پی اے میں اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ کھلے عام کہے میں نے پارٹی ڈسپلن کے خلاف ووٹ دیا،نتائج کا سامنا کرے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا یہ تو اخلاقی بات ہے قانونی نہیں،ایم پی اے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکے۔چیف جسٹس نے کہا ہم آئین کے محافظ ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

