پاکستان پاکستان24

اسامہ قتل کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ: ”پولیس افسران بھی ملے ہوئے تھے“

جنوری 13, 2021

اسامہ قتل کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ: ”پولیس افسران بھی ملے ہوئے تھے“

اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے اسامہ ستی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے پاس جمع کی گئی رپورٹ میں دل دہلا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سفاک اہلکاروں نے گاڑی روکنے کے باوجود اسامہ کو 22 گولیاں مار کر اسے بے دردی سے قتل کیا۔

اسامہ کی لاش کو پولیس نے سڑک پر رکھا جبکہ پولیس کنٹرول نے ریسکیو 1122 کو غلط ایڈریس بتایا۔

رپورٹ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت ثابت کرتے ہوئے انھیں انسانیت سے بھی عاری قرار دیا گیا ہے۔

مقتول طالبعلم اسامہ ستی کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول کا کسی ڈکیتی سے تعلق نہیں تھا، گاڑی روکنے کے باوجود اہلکاروں نے اسے 22 گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

رپورٹ میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق اسامہ کے قتل کو چار گھنٹے تک ان کے خاندان سے چھپایا گیا جبکہ موقع پر موجود افسران نے وقوعہ کو چھپانے اور اسے ڈکیتی بنانے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتول کو ریسیکو کرنے والی گاڑی کو غلط لوکیشن بتائی جاتی رہی۔ موقع پر موجود افسر نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر نہیں لی۔اسامہ ستی قتل کیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا۔ ڈیوٹی افسر نے غیر ذمہ دادی کا مظاہرہ کیا۔

اسامہ کو چار سے زائد اہلکاروں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔گولیوں کے خول 72 گھنٹے بعد فرانزک کے لیے بھیجے گئے۔ اسامہ کی گاڑی پر بائیس گولیاں فائر کی گئیں۔ اور لاش کو پولیس نے سڑک پر رکھا جبکہ پولیس کنٹرول نے ریسکیو 1122 کو غلط ایڈریس بتایا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا محمد وقاص کی جانب سے تیار کی گئی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پانچوں اےٹی ایس اہلکارذمہ دارقرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف دہشتگردی دفعات کےتحت مقدمہ چلانےکی سفارش کی گئی ہے۔

چیف کمشنرنےجوڈیشل انکوائری رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کرائی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اےٹی ایس کمانڈوزکی تعیناتی کارکردگی کی بنیادپرہونی چاہیے، اےٹی ایس اہلکاروں کوفورسزکیساتھ مل کرکام کرنےکی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اہلکاروں کی خدمات ایس پی کی منظوری کےبغیرنہیں لی جانی چاہئیں۔ آئی جی وائرلیس سسٹم کی بہتری کےلیےاقدامات کریں۔ آئی جی ہدایت دیں کہ سنسنی خیزی کےبجائےواقعے کی تفصیل دیں۔ متعلقہ ایس پی اورڈی ایس پی نےغیرذمہ داری کاثبوت دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں افسران کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے رپورٹ موصول ہونے پر وزیراعظم کو بھجوانے کے لیے لواحقین سے رابط کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے لواحقین کو ان کی مرضی کے مطابق ہائی کورٹ کے جج سے بھی جوڈیشل انکوائری کرانے کی بھی پیش کش بھی کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے