پاکستان پاکستان24

پاکستان میں کورونا کی پہلی ویکسین کے استعمال کی منظوری، ویکسین نہ خریدنے پر اپوزیشن کی تنقید

جنوری 17, 2021

پاکستان میں کورونا کی پہلی ویکسین کے استعمال کی منظوری، ویکسین نہ خریدنے پر اپوزیشن کی تنقید

پاکستان میں برطانوی ویکسین اسٹرازنیکا کے ایمرجنسی استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے استعمال کے لیے منظور کی جانے والی یہ پہلی ویکسین ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو بین الاقوامی ادویہ ساز کمپنیوں سے ویکسین کی خریداری کے معاہدے نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے بتایا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری کے بعد چین کی سینوفارم ویکسین کی 10 لاکھ سے زائد خوراکیں حاصل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ’ڈرگ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اسٹرازنیکا کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی ہے۔‘

وزیراعظم کے معاون خصوصی کے مطابق ’ہم باہمی خرید و فروخت کے معاہدوں کے تحت یا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کوویکس کے ذریعے مغربی اور دیگر ویکسین حاصل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘

پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے چینی ویکسین کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کا جائزہ لیا ہے تاہم ابھی تک اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی گئی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ پاکستان ویکسین بنانے والی مختلف کمپنیوں سے رابطے میں ہے اور چین کی کین سینو بائیو کمپنی سے ایک معاہدے کے تحت ویکسین کی ’دسیوں لاکھوں‘ خوراکیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کمپنی کی ویکسین پاکستان میں کلینکل ٹرائلز کا آخری مرحلہ فیز تھری مکمل کرنے والی ہے۔
مشیر صحت نے کہا کہ سب سے اہم چیز ویکسین کا موثر ہونا ہے۔ ’ہم مختلف ویکسینز کے موثر ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

ادھر سندھ حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبوں کو ویکسین کی خریداری کا اختیار دیا جائے تاکہ سندھ میں ویکسینیشن کے مرحلے کو جلد شروع کیا جا سکے۔

سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ جن دو ویکسین کی ڈریپ کی طرف سے منظوری دی گئی ہے ان کی صوبائی سطح پر خریداری کی اجازت دی جائے۔

وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس عذرا پیچوہو نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ضروری ہے کے ہم جلد از جلد ویکسین لگانا شروع کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین کے سلسلے میں وفاقی حکومت سے رابطے کے باوجود ابھی تک ویکسین کی دستیابی کا کوئی شیڈول سامنے نہیں آ سکا ہے۔

’اب تو ایسا لگ رہا ہے ہم دنیا میں آخری ملک رہ جائیں گے جس کے پاس ویکسین کی دستیابی تاخیر سے ہوگی۔‘

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ سندھ میں سب سے پہلے ویکسین لگانے کی لاجسٹک تیاری مکمل کرلی گئی ہے جب کہ سندھ میں جامعہ کراچی ملک کا واحد ادارہ ہے جس میں کورونا وائرس کی جینومک سرویلنس کے تحت پروفائیلنگ کی جا رہی ہے کیوں کہ وقت کے ساتھ وائرس میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے