لاپتہ شہری کی عدم بازیابی، کیوں نہ نواز شریف پر جرمانہ عائد کیا جائے؟ ہائیکورٹ
پانچ سال سے اسلام آباد سے لاپتہ شہری عمران خان کی عدم بازیابی پر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنہ 2015 سے اب تک کے وزرائے اعظم، وفاقی کابینہ کے ارکان پر جرمانہ عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
منگل کو سماعت کے بعد حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل مطمئن نہ کر سکے تو وزرائے اعظم اور کابینہ پر جرمانہ عائد کریں گے۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ جے آئی ٹی کے مطابق جبری گمشدگی کا کیس ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پر تو ذمہ داری عائد کرنی پڑے گی، شہریوں کی سیکورٹی اور سیفیٹی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین کے تحت چلنے والی سوسائٹی میں جبری گمشدگی کسی صورت برداشت نہیں۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ وفاقی حکومت ذمہ دار ہے تو کیوں نہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو جرمانہ کیا جائے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کسی بھی شہری کی جبری گمشدگی گھناونا جرم ہے، اگر کوئی بھی شہری لاپتہ ہو تو ریاست اس کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ ریاست کچھ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ صرف حفاظت نہیں بلکہ جو لاپتہ ہے تو اس کا پتہ لگانا بھی ریاست پر لازم ہے، بھلے وہ لائیو سٹاک والوں نے اٹھایا ہو پتہ تو چلے لاپتہ ہونے والا کہاں پر ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کب اس کو اٹھایا گیا اس وقت وزیراعظم اور کابینہ کون سی تھی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف اور ان کے بعد آنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، کیوں نہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
بعد ازاں19 مئی 2015 سے لاپتہ شہری کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

