خیبر پختونخوا کے پولیس حکام سوشل میڈیا سے پریشان، ایف آئی اے سے شکایت
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی مثالی سمجھی جانے والی پولیس کے اعلیٰ حکام نے ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سے شکایت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر صوبائی پولیس کے خلاف ‘گھناؤنی مہم’ شروع کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل رائے بابر سعید کے دستخطوں سے لکھے گئے خط میں ایف آئی اے اسلام آباد سے درخواست کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر پولیس کے بارے میں باتیں کرنے والے صارفین کے خلاف پاکستان کے انسداد الیکٹرانک کرائم (پیکا) ایکٹ مجریہ 2016 کے تحت کارروائی کی جائے۔
خط کے مطابق ‘خیبر پختونخوا پولیس کے خلاف سوشل میڈیا خاص طور پر واٹس ایپ کے گروپس میں کچھ افراد اپنے مفادات کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔’
خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘حال ہی میں ایک اخبار میں ایک بے بنیاد خبر شائع ہوئی ہے جس کو خیبر پختونخوا کے پولیس محکمے کا امیج خراب کرنے کے لیے واٹس ایپ گروپس میں پھیلا جا رہا ہے۔ یہ خود ساختہ اس پولیس فورس کا مورال گرا سکتی ہے جس کے افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اور کورونا کی وبا کے دوران فرنٹ لائن پر اس کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا۔’
ڈئی آئی جی ہیڈکوارٹر نے ایف آئی اے سے درخواست کی ہے کہ اس سلسلے میں پیکا ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ پولیس حکام نے یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ خبر اگر بے بنیاد اور من گھڑت ہے تو شائع کرنے والے اخبار کے خلاف کیا قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں فوج اور خفیہ اداروں سے وابستہ افسران پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف ایف آئی اے میں درخواستیں دی جاتی رہی ہیں جن پر عدالتوں میں مقدمات بھی زیر سماعت رہے۔

