پاکستان

ڈینیئل پرل کیس میں کسی شہری کو مزید حراست میں کیسے رکھیں؟ عدالت

فروری 1, 2021

ڈینیئل پرل کیس میں کسی شہری کو مزید حراست میں کیسے رکھیں؟ عدالت

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے احمد عمر سعید شیخ کا نام لیے بغیر سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی رہائی سے پاکستان پر سنگین نوعیت کے بین الااقوامی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، سندھ ہائی کورٹ کے رہائی کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔

پیر کو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے عمر سعید شیخ سمیت گرفتار ملزمان کی رہائی کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی۔

ملزمان کے وکیل نے استدعا کی کہ گرفتار افراد کو مزید حراست میں رکھنے کا کوئی نیا حکمنامہ جاری نہ کیا جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ گرفتار افراد کی جیل میں موجودہ حیثیت چوبیس گھنٹوں تک برقرار رہے گی۔

 

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت کی۔

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔سندھ حکومت نے اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ مرکزی مقدمے میں پہلے ہی عمر سعید شیخ سمیت چاروں افراد کو رہا کرنے کا حکم دے چکی ہے۔اس فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں تاحال سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔

مقدمے کی سماعت کے آغاز پر بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا یہ مقدمہ شہری آزادی سے متعلق ہے، دس ماہ سے احمد عمر سعید شیخ غیر قانونی حراست میں ہے، ہم اس نقطے کا بھی جائزہ لیں گے احمد عمر سعید شیخ کو کیوں حراست میں رکھا گیا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا ہمیں وجوہا ت بتائیں ابھی تک احمد عمر سعید شیخ کو کیوں رہا نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا گرفتار ملزمان کی رہائی سے پاکستان پر سنگین نوعیت کے بین الااقوامی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے