پاکستان

والد اور ساتھیوں نے کے ٹو سر کر لیا تھا، واپسی پر حادثہ ہوا: ساجد سدپارہ

فروری 7, 2021

والد اور ساتھیوں نے کے ٹو سر کر لیا تھا، واپسی پر حادثہ ہوا: ساجد سدپارہ

کے ٹو پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ان کے والد اور دو ساتھی کے ٹو سر کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کسی حادثے کا شکار ہو گئے۔

ساجد علی سدپارہ نے سکردو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے والد اور دیگر دو ساتھیوں کو آخری مرتبہ کے ٹو ’بوٹل نیک‘ سے 8 ہزار دو یا تین سو میٹر کی بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سدپارہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری مرتبہ ’بوٹل نیک‘ سے بلندی پر چڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

ساجد سدپارہ نے کہا کہ آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر دو دن تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں، تاہم  کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری رکھنا چاہیے۔

ساجد علی کے مطابق آکسیجن سلینڈر میں خرابی کے باعث ان کے والد نے انہیں واپس جانے کا کہا تھا جبکہ علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیما آگے بڑھتے رہے۔

ساجد علی سدپارہ نے مزید کہا کہ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی، اور دماغی حالت بھی اس وقت ٹھیک نہیں تھی۔

ساجد علی کے مطابق جمعے کو 12 بجے انہوں نے بوٹل نیک سے واپسی کا سفر شروع کیا تھا اور تقریباً شام پانچ بجے کیمپ سی پر پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیمپ سی پر پہنچنے پر واکی ٹاکی کے ذریعے رابطہ کر کے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ پہنچ گئے ہیں، جبکہ دیگر ممبران مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ژاں پابلو موہر کے ساتھ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی تاحال رابطہ ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی تلاش کے لیے پاکستانی آرمی کے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی لی گئی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے