سخت سکیورٹی میں اسلام آباد کے گرفتار وکلا انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ہائیکورٹ پر حملے کے کیس میں گرفتار مزید چار وکلا کو سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے وکلا کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
جمعرات کی شام گرفتار کیے گئے اسلام آباد بار کے سیکرٹری لیاقت کمبوہ سمیت حراست میں لیے چاروں گرفتار وکلا کو جمعے کی صبح انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے چاروں ملزمان کو 19 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
ہائیکورٹ پر حملے کی ایف آئی آر تھانہ رمنا جبکہ سیشن جج کی عدالت میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے وکلاء کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد بار کونسل کی جانب سے وکلا کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ عدالتوں میں پیش ہوئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وکلا کی ہڑتال کے باعث سائلین بھی سخت مشکلات سے دو چار ہیں، جبکہ سیاسی نوعیت کے اہم مقدمات بھی التوا کا شکار ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد بار کونسل کا موقف ہے کہ جب تک وکلا کے خلاف مقدمات ختم کر کے انہیں رہا نہیں کیا جاتا، تب تک عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ سی ڈی اے کی جانب سے گرائے گئے وکلا کے چیمبرز دوبارہ تعمیر کرائے جائیں جبکہ ڈی سی اسلام آباد اور متعلقہ سیشن جج کا تبادلہ بھی کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں جمعے کو بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عدالتوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

