پاکستان

عدلیہ پر حملہ کیس: کون گیم کھیل رہا ہے؟ ہائیکورٹ

فروری 12, 2021

عدلیہ پر حملہ کیس: کون گیم کھیل رہا ہے؟ ہائیکورٹ

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتار چار وکلا کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے عام وکلا کو ہراساں کرنے پر پولیس حکام کی سخت سرزنش کی ہے۔

جمعے کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتار وکلا نوید ملک، ظفر علی، نازیہ بی بی اور شیخ شعیب ایڈووکیٹ کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر سماعت کی۔
ملزمان کے وکیل نے عدالت میں ایف آئی آر پڑھ کر سنائی اور مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے مطابق عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ لگتی ہے یا نہیں۔
وکیل سہیل اکبر چوہدری نے کہا کہ عدالت بہتر جانتی ہے کہ کون سی دفعہ لگانی چاہیے۔ جو وکلا مظاہرے میں نہیں تھے ان کو کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے؟ استدعا ہے کہ ان سب کو جیل سے نکالا جائے۔
وکیل نے کہا کہ نازیہ بی بی ایڈووکیٹ کا بھی نام اس ایف آئی آر میں موجود ہے اور وہ بیمار  ہیں۔ نازیہ بی بی کا نام کیس سے خارج کیا جائے۔ وکیل نے کہا ہائیکورٹ پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ اگر منصوبہ بندی کے تحت یہ سب ہوتا تب دہشت گردی کی دفعہ لگتی۔
سرکاری وکیل میاں عامر سلطان گورایہ نے ملزمان کو ضمانت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں دلائل کہ ضرورت ہی نہیں۔ ہمیں بار  میں ادب سکھایا گیا ہے، عدالت کا تقدس اولین ترجیح ہے، دہشتگردی کی دفعات اس کیس میں درست لگائی گئی ہیں، دہشتگردی کی دفعات لگائے جانے کا ایرٹ اس مرحلے پر نہیں ٹرائل سٹیج پر دیکھا جائے گا۔ استدعا ہے کہ درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔
عدالت نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعد ازاں ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا حکم سنایا۔
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالت پر حملے کے بعد پولیس کی جانب سے بے قصور وکلا کے گھروں پر چھاپوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ اور پروفیشنل وکلا کو کون ہراساں کر رہا ہے؟ کیا اس معاملے پر کوئی گیم کھیل رہا ہے؟ یہ صرف اصل ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں۔ یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پولیس کیا کسی کی گیم کھیل رہی ہے؟ یہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ دھاوے کی مذمت کرنے والے وکلا کے گھروں پر بھی چھاپے کیوں مارے جا رہے ہیں؟
جواد نذیر ایڈووکیٹ نےعدت کو بتایا کہ پولیس نے گزشتہ رات ان کے آفس پر چھاپہ مارا، نہ میں احتجاج میں تھا نہ اس کی حمایت کی۔ میں نے تو  حملے کی کھل کر مذمت کی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے آفس پر چھاپے مارے ہیں؟ آپ تو کہیں شامل بھی نہیں تھے۔
جواد نذیر ایڈووکیٹ نے کہاکہ میں نے تو اس کنڈکٹ کی بھی مذمت کی اور عدالتوں میں بھی پیش ہو رہا ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ علیم عباسی صاحب کا بھی مجھے پتہ چلا ہے کہ ان کے گھر پر بھی چھاپا مارا گیا ہے۔ وہ تو اس میں شامل نہیں تھے ان کا کردار تو مثبت رہا ہے۔ مجھے اور کسی چیز کا دکھ نہیں صرف یہ ہے ادارہ میرا نہیں آپ سب کا بھی ہے۔ میں یقینی بناؤں گا کہ جس کی کوئی مداخلت نہیں ان کو ہراساں نہ کیا جائے۔ میں بہت ساری چیزیں آپ کو نہیں بتا سکتا جو میری معلومات ہیں۔ جنہوں نے جرم کیا ہے صرف ان کے خلاف کارروائی درست لیکن کسی بے گناہ کو ہراساں نہ کیا جائے۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور پولیس کو طلب کیا۔
 ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ایس ایس پی آپریشن مصطفیٰ تنویر عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر اور اسلام آباد پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ کون کر رہا ہے یہ سب؟
ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے کہا کہ ان کو بھی صبح ہی پتہ چلا ہے، اسی وجہ سے ایس ایس پی کو بلایا ہے۔
چیف جسٹس نے ایس ایس پی سے پوچھا کہ بے گناہ اور پروفیشنل وکلاء کو کون ہراساں کر رہا ہے؟ کیا اس معاملے پر کوئی گیم کھیل رہا ہے؟ اصل مجرمان کے بجائے آپ بے گناہوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ جو حملے میں ملوث ہیں ان کو آپ پکڑ  نہیں سکتے، آج تک اس عدالت سے آپ کے کام میں مداخلت نہیں ہوئی، یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی، اس معاملے پر انکوائری بٹھائیں اور پتہ کریں کہ کس نے ایسا کیا اور کیوں کیا۔ اس ملک میں رول آف لا نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ سینیئر وکیل جواد نذیر کا تو اس واقعے سے تعلق ہی کوئی نہیں تھا۔ کون پروفیشنل اور بے گناہ وکلا کو ہراساں کررہے ہیں؟ مجھے ان کے خلاف کارروائی چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے ان کے بھی خلاف کارروائی چاہیے جنہوں نے اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کیا۔ کل تک انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 5 فیصد لوگ اس واقعے میں ملوث تھے جو سب کی بدنامی کا باعث بنے، پتہ کریں کون گیم کھیل رہا ہے، یہ صرف اصل ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے