چیف جسٹس کی چیف الیکشن کمشنر کو سمجھانے کی کوششیں
پاکستان کی سپریم کورٹ میں اس وقت سینیٹ انتخابات کیس میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نہ صرف حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو گیاہے بلکہ دو ٹوک الفاظ میں صدارتی ریفرنس کی بھرپور مخالفت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک موقع پر چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا چیف الیکشن کمشنر صاحب ہم جو بات کر رہے ہیں اُس کی گہرائی کو سمجھیں، آپ کیوں ہماری بات نہیں سمجھ رہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ میں اُس وقت دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب چیف الیکشن کمشنر اور چاروں اراکین ذاتی حیثیت سے پیش ہوئے تو سماعت کے دوران تین مرتبہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے روسٹرم پہ آکر بات کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے انھیں دلائل دینے کی اجازت نہ دی۔ایک موقع پر تو جسٹس اعجا ز الااحسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ جلد بازی کا مظاہر ہ کیوں کر رہے ہیں؟ اپنے گھوڑوں کو لگام دیں؟ چیف جسٹس نے کہا ہم چیف الیکشن کمشنر کو سنیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے روسٹرم پر آکر کہا ہم نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے،انتخابی عمل میں بدعنوان سرگرمیوں کو روکنے کا طریقہ کار موجود ہے،انتخابی بدعنوانی کی سرگرمیوں کو روکنے کا الیکشن ایکٹ کے چیپٹر دس میں زکر موجود ہے، آئین کے آرٹیکل 2018 کی زیلی شق تین شفاف انتخابات کرانے کا ضامن ہے، اگر انتخابات میں کوئی اور بدعنوان سرگرمی کی اطلاع ملے تو اس کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمشنر صاحب جو باتیں آپ کر رہے ہیں سب کو علم ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا ہمیں بتائیں انتخابات میں اگر کوئی سیاسی جماعت بد عنوان سرگرمی کرے تو اسے جانچا کیسے جاتا ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا انتخابی عمل کے دوران رشوت ستانی، ووٹوں کی خریدوفروخت اور بلاضرورت اثرانداز ہونا بھی بد عنوان سرگرمیوں میں آتا ہے،الیکشن کمیشن اسکیم بتائے کیا اقدامات کیے گئے، الیکشن کمیشن کا یہ اختیار بھی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کرکے رونما والی بدعنوان سرگرمی کو قبل از وقت روکے، شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا جرم سرزد ہو جائے تو اس کے خلاف اقدامات کرنے کا الگ طریقہ کار ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے چیف الیکشن کمشنر صاحب ہماری بات کی گہرائی کو سمجھیں،پاکستان میں کس طرح کے انتخابات ہوتے رہتے ہیں سب کو پتہ ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سینیٹ کے شفاف انتخابات کیلئے کون سے اقدامات کیے گئے وہ بتائیں،چیف الیکشن کمشنر صاحب آپ کیوں ہماری بات کو سمجھ نہیں رہے،آپ جو بات کررہے ہیں وہ تو روزمرہ کا کام ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا ووٹ کی رازداری کے اصل معنی کیا ہیں؟ آپ کے قانون میں لکھا ہے کہ ووٹ ڈالتے وقت ووٹر اپنے ووٹ کو خفیہ رکھے گا۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کیا آپ نے سیکریسی کے معاملے ہر آپس میں مشاورت کی ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کرپٹ پریکٹس کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ آپ یہ ہمیں لکھ کر دیں تاکہ عدالت مطمئن ہوسکے،بیلٹ پیپرز کو ہمیشہ خفیہ رکھنا سیکریسی ہے یہ قانون میں دکھا دیں،سیکریسی صرف ووٹ ڈالتے وقت تک ہے ہمیشہ کے لیے نہیں، اگر بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر لکھا جائے اور بوقت ضرورت پارٹی سربراہ انکو ٹریس کر سکے کیا یہ ممکن ہے؟۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا اگر ایسا کیا گیا توووٹ کی رازداری(سیکریسی)کا تقدس ختم ہو جائے گا۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا عدالت کوبتائیں قانون میں ایسا کہاں لکھا ہے؟۔ چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سے جو سوال کیا جا رہا ہے وہ آپ سمجھ نہیں رہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہم ووٹر کی شناخت کو چھپاتے ہیں اور کوئی مارک یا سیریل نمبر نہیں ہوتا،اگر سیریل نمبر لکھا گیا تو ووٹر کی شناخت ظاہر ہو جائے گی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا ہم آپ سے شناخت ظاہر کرنے کا نہیں کہہ رہے بلکہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ ووٹ کی فروخت کا تعین کیسے ہوگا؟۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا ووٹر کی شناخت خفیہ ہے جو کسی صورت ظاہر نہیں جا سکتی،اگر شناخت خفیہ نہیں رکھنی تو عدالت بتا دے،اگر شناخت ظاہر کرنی ہے تو ترمیم کرنا پڑے گی،کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کیلئے ہمارا طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا عدالت یہ نہیں کہہ رہی کہ اوپن کردیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کرپٹ پریکٹس کی روک تھام کے لیے عدالت الیکشن کمیشن کی مدد کرنا چاہتی ہے،الیکشن کمیشن اس پر آپس میں مشاورت کرے۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا گزشتہ الیکشن میں کرپٹ پریکٹس ہوئیں الیکشن کمیشن نے کتنے ممبران کو نااہل کیا؟ چیف جسٹس نے کہا کرپٹ پریکٹس روکنے کے لیے کیا ڈیوائسز بنائی ہیں؟۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہم وڈیو والا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا یہ دو سال پرانی وڈیو ہے کیا الیکشن کمیشن دو سال تک سویا رہا؟ جانے تو جانے گل نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے، پورے پاکستان کو پتا ہے لیکن الیکشن کمیشن لاعلم ہے۔
اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا میری ایک تجویز ہے جو عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں،میرے ذہن میں ایک روڈ میپ ہے الیکشن کمیشن اس کو دیکھ لے۔چیف جسٹس نے کہا الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ جیسا پہلے چل رہا تھا آئندہ بھی چلے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا ہو سکتا ہے میرے ذہن میں جو روش میپ ہے الیکشن کمیشن اسے سن کر مطمئن ہو جائے۔چیف جسٹس نے کہا آئے روز انتخابات سے متعلق باتیں ہوتی ہیں،پاکستان کی عوام الیکشن کمیشن کی طرف دیکھ رہی ہے، جو باتیں اس وقت ہو رہی ہیں اس پر الیکشن کمیشن کس بات کا انتظار کر رہا ہے؟۔چیف الیکشن کمشنر نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا جب ہمارے پاس ایک شکایت آتی ہے تو ہم اس پر کاروائی کرتے ہیں۔
سماعت کے دوران سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے روسٹرم پر آکر کہا انتہائی احترام کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے،اس زیر سماعت مقدمے میں ایک سے زیادہ سٹیک ہولڈرز ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ تجویز ایک سیاسی جماعت کی تجویز تصور ہوگی، جس تجویز کی بات ہو رہی ہے دیگر سٹیک ہولڈرز کا اس سے متفق ہونا مشکل ہے، الیکشن کمیشن تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرکے کوئی حل نکال سکتا ہے، انتہائی احترام سے کہنا چاہتا ہوں سپریم کورٹ یہ بات مدنظر رکھے کہ موجودہ وقت میں یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایکٹ منظور کرایا جائے۔
چیف جسٹس نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم آپکی بات سمجھ نہیں پا رہے،ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرے،سینیٹ الیکشن سے متعلق عوام کی واضح رائے موجود ہے،سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی تقاریر میں سینیٹ انتخابات کے شفاف ہونے سے متعلق اتفاق رائے کر چکے ہیں،ہم صرف الیکشن کمیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے؟۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا الیکشن کمیشن کے پاس رولز بنانے کا اختیار بھی موجود ہے۔رضا ربانی نے کہا الیکشن کمیشن کوئی بھی اقدام آئین کے آرٹیکل 218 کے تناظر میں اٹھائے،الیکشن کمیشن کا اٹھایا قدم خودمختار ہونا چاہیے، اٹارنی جنرل کی دی گئی تجویز ایک سیاسی جماعت کا موقف ہے جو انکے اپنے گرد گھومتا ہے،ایک سیاسی کی تجویز باقی فریقین کو قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا میں اپنے موقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، میری کوئی تجویز نہیں ہے، میں جو بات کرنے جا رہا ہوں اسے سے میرے گزشتہ دیئے گئے دلائل متاثر نہ کرنے کی استدعا ہے، اگر سینیٹ الیکشن میں بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر لگا دیا جائے تو اس سے رازداری متاثر نہیں ہوگی، کاؤنٹر فائلز پر سیریل نمبر درج ہوں گے جو الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے طور موجود ہوں گے۔
چیف جسٹس نے کہا چیف الیکشن کمشنر صاحب لوگوں کی پریشانی کو سمجھیں اور ہماری۔۔۔ پھر اپنی بات جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا ہماری کوشش ہے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہو،الیکشن کمیشن اس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
عدالت نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو کل بھی ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے قرار دیا الیکشن کمیشن اجلاس بلا کر تحریری جواب جمع کرائیں۔
جہانزیب عباسی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں اور نجی نیوز چینل کے لیے سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔

