اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن: سپریم کورٹ میں رائے محفوظ
سینٹ الیکشن کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے رائے محفوظ کر لی ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ دیکھیں گے کہ ۲۸ فروری سے پہلے اپنی رائے دے دیں۔
سماعت کے آخری روز بھی عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ایک بار پھر محض دس منٹ کے لیے سنا اور اٹارنی جنرل کو مزید ایک گھنٹہ دلائل دینے کا وقت دیا گیا۔
جمعرات کو ایک موقع پر دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری زندگی کا یہ سب سے اہم کیس ہے۔ جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے جواباً کہا کہ یہ مقدمہ آپ کیلئے آخری نہیں ہے، ہم آپ کو سنتے رہیں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل دلائل میں کہا گیا ووٹ انفرادی ہوتا ہے، ماضی میں سیاسی جماعتوں کے بجائے انفرادی ووٹ کی حوصلہ افزائی فوجی آمروں نے کی تھی، کہا گیا ڈیپ اسٹیٹ پیچھے پڑ جائے گی، پوری دنیا میں ووٹ کی رازداری ڈیپ اسٹیٹ کو مواقف آتی ہے۔

