پاکستان پاکستان24

سپریم کورٹ نے وکیلوں کے قبضے ختم کرنے کے فیصلے پر عمل رُکوا دیا

فروری 26, 2021

سپریم کورٹ نے وکیلوں کے قبضے ختم کرنے کے فیصلے پر عمل رُکوا دیا

سپریم کورٹ نے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرانے کے اسلام آباد ہائےکورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے فیصلے پر عملدرآمد عبوری طور پر روکنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعے کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دران کمرہ عدالت میں وکلا کی دھکم پیل اور بھیڑ پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر دبائو نہ ڈالیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی،روسٹرم سے پیچھے ہٹ جائیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ سب لوگ کیوں آگے آ گئے ہیں، کیا آپ کو آواز نہیں آ رہی، ہم وکیلوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم بھی وکیل رہ چکے یہ کام کبھی نہیں کریں گے، وکیلوں کے کلپ نظر آتے رہتے ہیں، وکلاء عدالتوں کے بارے میں کیا کیا بات کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی عقل اور شعور ہونا چاہیے، آپ جس ادارے کا حصہ ہیں کچھ خیال کریں، یہ سب ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، جہاں کچھ وکیل اکھٹے ہوتے کچھ الٹا بولتے اور کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہائیکورٹ کے حکم پر منگل تک وکیلوں کے چیمبرز گرانے سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس کے ساتھ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر کے پوش علاقے میں وکیلوں نے فٹبال گراؤنڈ، قبرستان اور نجی املاک پر قبضے کر کے چیمبرز تعمیر کیے ہیں جن کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چار رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ وکلا اپنی عزت و تکریم پر سمجھوتہ نہ کریں، ہم بھی خود کو وکلا کا حصہ سمجھتے ہیں، وکلا عدالتوں کیلئے جیسی گفتگو کرتے ہیں وہ بھی دیکھیں، یہ کیا طریقہ ہے جہاں 4 وکیل جمع ہوں مائیکرو فون اٹھا کر تقریر شروع کر دی، وکلا عدلیہ کا حصہ ہو کر اس کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتے، پبلک اراضی پر چیمبرز بنانے کا کوئی جواز نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ فٹبال گراؤنڈ پر 3 منزلہ چیمبرز تعمیر کیے گئے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا چیمبرز وکلا کی ذاتی ملکیت تصور ہوتے ہیں، بار ایسوسی ایشن کو چیمبرز لیز پر دینے کا اختیار کہاں سے آگیا ؟ پبلک کی زمین پر چیمبرز بنانے کا اختیار کہاں سے آگیا ؟ ملک میں کہیں بھی گراؤنڈ میں چیمبرز نہیں بنے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ وکلا چیمبرز کیلئے 5 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے