قومی اسمبلی میں تحفظ ناموس رسالت کی قرارداد پیش نہ کی جا سکی، شیخ رشید کی طبیعت خراب
قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے اعلان کے مطابق حکومت تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے متفقہ قرار داد منظوری کے لیے پیش نہ کرسکی۔
اپوزیشن نے وفاقی وزیرِداخلہ شیخ رشید کے مختصر پالیسی بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور ملک میں پیداشدہ صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے دیا ۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحفظ ناموس رسالت میں ہم لبیک سے پیچھے نہیں ہیں۔
وزیرمذہبی امور نے کہا کہ مذاکرات جاری تھے تو مذہبی جماعت نے مارچ کی تیاریاں شروع کردیں راستے کھلے رکھنے کے لیے ایکشن لیا گیا۔
پیر قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس کے آغاز پر مسلم لیگ ن کی نومنتخب رکن نوشین افتخار نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا ۔
اجلاس میں لاہور واقعہ اور اس سے پیدا شدہ صورتحال زیربحث آئی اور اپوزیشن نے حکومت پر کڑی تنقید کی ۔
جے یو آئی (ف) کے مفتی عبدالشکور نےکہا خود جلاؤ گھیراؤ کرنے اوردھرنےدینے والا اقتدار میں آیا تو گولیاں برسا دیں، حکومت فیصلہ کرلے وہ فرانس کے ساتھ ہے یا رسول اللہﷺ کی ناموس کےساتھ ہے۔
وزیرِداخلہ شیخ رشید نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، وزیراعظم موجودہ صورتحال پر قوم سے خطاب میں پالیسی بیان دیں گے تحفظ ناموس رسالت میں ہم لبیک سے پیچھے نہیں۔
پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے شیخ رشید کے بیان کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی توہین کرکے چلے گئے ہیں ۔ وزیراعظم کو ایوان میں آکر تقریر کرنی چاہیے تھی ۔ ملک میں اس وقت جو ہورہا ہے حکومت مکمل طور پر اس کی ذمہ دار ہے۔
وزیرمذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا مذہبی جماعت کےساتھ مذاکرات کے2 دور ہوچکےہیں۔ ٹی ایل پی کےساتھ معاہدے کےتحت معاملےکوپارلیمان میں لانےکےپابند تھےمگر مارچ کی تیاریاں شروع کردی گئی اس لیے ایکشن لینا پڑا۔
علی محمد خان نے کہا اس ایوان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ ختم نبوت پر پہرہ دیا، علی محمد خان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نےنعرے لگانے شروع کردیئے،خان کے ساتھ ہو یا ایمان کے ساتھ ہو۔ بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

