کورونا کی صورتحال بے قابو، ”بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے“
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ تیسری لہر کے دوران کورونا سے حفاظتی تدابیردیکھنے میں نہیں آرہیں،
این سی او سی اجلاس کے بعدوفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں کورونا صورتحال کا جائزہ لیا، صورتحال اچھی نظر نہیں آرہی، کچھ نئے فیصلے کیے ہیں، جمعے سے نئی بندشوں کا آغاز کریں گے۔
اسد عمر کے مطابق گزشتہ سال قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا، اس مرتبہ عمل نہیں ہورہا، قوم بھی عمل نہیں کررہی، انتظامیہ بھی کارروائی نہیں کررہی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار ہزار سے زائد مریض آکسیجن پر ہیں، گزشتہ سال جون میں 3400 لوگ آکسیجن پر تھے، کئی شہروں میں وینٹی لیٹرز کا استعمال 80 فیصد سے زیادہ ہے۔
اسد عمر نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے خدا نخواستہ بڑے شہر بند کرنا پڑیں گے، صوبوں کی مدد کے لیے وفاق تیار کھڑا ہے، ابھی بڑے شہر بند نہیں کررہے، چند دن کی گنجائش رہ گئی ہے۔
اسد عمر کے مطابق کوششوں سے کورونا کے پھیلاؤ کو قدرے کچھ کم کیا ہے، آکسیجن بنانے کی گنجائش لامحدود نہیں ہے۔
اسد عمر کے مطابق آکسیجن کی سپلائی چین بھی 90 فیصد بڑھ گئی ہے، آکسیجن پر مریضوں کی تعداد4ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
اسد عمر نے بتایا کہ کورونا کے مثبت کیسز کی وجہ سے اسپتالوں میں دباؤ بڑھ رہاہے ، رواں ہفتے کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

