کورونا ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے بھی فوج طلب
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔ ’ہم نے احتیاط نہ کی تو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا، کورونا ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے فوج بھی پولیس کے ساتھ سڑکوں پر نکلے گی۔‘
جمعے کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ”مجھے لوگ کہہ رہے ہیں لاک ڈاؤن کر دو، لاک ڈاؤن اس لیے نہیں کررہا کیونکہ غریب مزدور طبقہ متاثر ہوگا۔‘
وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ پانچ فیصد سے زائد کورونا کیسز والے علاقوں میں سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے ایسی صورتحال پیدا ہو کہ شہر میں لاک ڈاؤن کرنا پڑے، تمام بازار شام چھ بجے تک کھلے ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان ڈور ڈائننگ پر پابندی تھی، آؤٹ ڈور پر بھی پابندی لگائی جارہی ہے۔ ’دفاتر میں 50 فیصد سے زیادہ لوگوں کو نہ بلایا جائے۔‘
واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جمعے کو جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 144 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ پانچ ہزار 870 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

