پاکستان پاکستان24

این ڈی ایم اے کے معاملات میں بہت گڑ بڑ ہے: سپریم کورٹ

مئی 5, 2021

این ڈی ایم اے کے معاملات میں بہت گڑ بڑ ہے: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی صورتحال پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے فوج کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی

چیف جسٹس گلزار احمد نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے کے معاملات میں بہت گڑ بڑ ہے، ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوتا، این ڈی ایم اے نے چین سے میڈیکل آلات کی خریداری کے لیے نقد رقم کی ادائیگی کیوں کی؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے کو گہرائی سے دیکھیں گے، لگتا ہے یہ بڑا اسکینڈل ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چین میں قائم پاکستانی سفارتخانہ کس قانون کے تحت خریداری کے عمل میں حصّہ لے رہا ہے، سفارت خانے کا یہ کام تو نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پوری دنیا میں ادائیگیاں بینکنگ چینلز سے ہوتی ہیں، حیرت ہے کسٹم ڈیوٹی سمیت تمام ادائیگیاں نقدی صورت میں کی گئیں۔

عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ مسترد کردی

چیئرمین این ڈی ایم اے کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ چیئرمین این ڈی ایم اے آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ ساتھ لائیں۔

عدالتی بینچ نے حاجی کیمپ اسلام آباد میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر پر اخراجات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حاجی کیمپ میں بنائے گئے قرنطینہ سینیٹر میں نہ پانی ہے نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات ہیں، حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر میں رنگ تک نہیں کیا گیا، وہاں نہ باتھ روم ہے نہ بیٹھنے کی سہولت ہے، ایک پائی بھی نہیں خرچ کی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کاغذوں میں بتایا جارہا ہے حاجی کیمپ کو تاج محل بنا دیا گیا، لاکھوں روپے لگا دیے گئے ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ چیئرمین این ڈی ایم اے حاجی کیمپ سمیت دیگر ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ سینٹرز کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کریں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے