خلائی سٹیشن سے سمندر میں لینڈنگ، ‘یہ پرلطف تجربہ تھا’
بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں 160 دن گزارنے کے بعد چار خلا باز زمین پر واپس پہنچ گئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق خلا بازوں کو واپس زمین پر لانے والی سپیس ایکس کریو ڈریگن نے 50 سال سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ رات کے وقت سمندر پر لینڈ کیا ہے۔
یہ پہلا خلائی مشن تھا جس نے ٹیسلا کمپنی کے مالک ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی کے بنائے گئے خلائی جہاز پر بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک اور وہاں سے واپسی کا کامیاب سفر کیا ہے۔
امریکی خلاباز وکٹر گلوور نے زمین پر واپسی کےبعد کہا کہ انہیں امید تھی کہ یہ تمام تجربہ انتہائی چیلنجنگ
ہوگا لیکن حقیقت میں یہ ایک پر لطف تجربہ تھا۔
گلوور کے مطابق زمین پر واپسی کے سفر میں وہ انتہائی بھاری محسوس کر رہے تھے۔ ’ایک موقع پر میں خود کو ہی سانس لینے اور سانس اندر تک لے کر جانے کا کہہ رہا تھا۔‘
جاپانی خلاباز نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ جہاز کی زمین پر لینڈنگ کا اثر انتہائی معمولی تھا، پیراشوٹ کے ذریعے سمندر پر لینڈ کرتے ہی لہروں کا احساس ہوا اور معلوم ہوا کہ پانی والے سیارے پر واپس آگئے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایلون مسک کی راکٹ کمپنی سپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت خلا بازوں کو امریکہ سے خلا میں لے کر جایا جائے گا، جو سنہ 2011 میں سپیس شٹل پروگرام کے بند ہونے کے بعد سے ممکن نہیں تھا۔
ناسا کو خلا میں سفر کے لیے روسی خلائی جہاز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی تھی۔
ایک اور خلا باز شینن واکر کا کہنا تھا کہ ’پانی پر لینڈ کرنے کا تجربہ دلچسپ تھا کیونکہ کسی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ کیا امید کرنی چاہیے، لیکن خشکی کے مقابلے میں پانی پر لینڈ کرنا قدرے ہموار تھا۔‘
ایلون مسک کےمنصوبے کے تحت جلد ہی خلا میں سیاحت کے شوقین افراد ڈریگن پر سوار ہو کر خلا کا سفر کر رہے ہوں گے۔
امریکی خلاباز مائیک ہوکنز کے خیال میں سیاح مناسب ٹریننگ کے بعد خلا کے سفر کی مشکلات سے نمٹ سکیں گے۔

