چین نے افغانستان کے لیے استثنائی امداد کی امریکی قرارداد روک دی
چین نے روس سے مل کر سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی اس امریکی قرارداد کو روک دیا جو طالبان کے زیرکںٹرول افغانستان پر عائد معاشی پابندیوں کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر استثنیٰ کا نظام فراہم کیے جانے سے متعلق تھی۔
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ قرارداد کے ایک پیراگراف کو حذف کرنا چاہتے ہیں جس میں پابندیاں لگانے والی کمیٹی کو اجازت دینے کی بات کی گئی تھی کہ اگر وہ سمجھتی ہے کہ افغانستان کو مزید مدد دینے کے لیے ایسی چُھوٹ ضروری ہے تو اثاثوں کو منجمد کرنے سے استثنیٰ دیا جائے۔‘
ایک اور سفارت نے بھی تصدیق کی ہے کہ چین جو اصولی طور پر پابندیوں کا مخالف ہے وہ کیس ٹو کیس اسثنیٰ دینے کے طریقہ کار کے خلاف ہے۔
چین کے اقوام متحدہ میں سفیر زانگ جون نے پیر کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جان بچانے والی امداد انسانی بینادوں پر افغان عوام کو پہنچنی چاہیے اور مصنوعی طور پر بنائی جانے والی شرائط اور پابندیاں قابل قبول نہیں۔‘
سفارتی ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو پیر کے روز پیش ہونے والی اپنی قرارداد کے لیے سکیورٹی کونسل کے دیگر 14 ارکان کی جانب سے منظوری کی امید تھی تاکہ وہ اسے منگل کو ووٹنگ کے لیے پیش کر سکے۔
سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پابندیوں کا نشانہ بننے والی طالبان حکومت کو انسانی بنیادوں پر کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔

