پاکستان

مری کی سڑکیں صاف، حکومت کا متاثرین کی مالی مدد کا اعلان

جنوری 9, 2022

مری کی سڑکیں صاف، حکومت کا متاثرین کی مالی مدد کا اعلان

پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام پر 22 افراد کے برفباری میں پھنس میں ہلاک ہونے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار مری پہنچے اور ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کی مالی مدد کا اعلان کیا.

ادھر ریسکیو محکموں نے ایک ہزار کے لگ بھگ گاڑیوں اور سیاحوں کو علاقے سے نکالتے ہوئے سڑکوں کو صاف کر دیا ہے۔

اتوار کو مری ایکسپریس وے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے جبکہ کلڈنہ میں سڑک پر پھسلن کے باعث گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین مری میں انتظامی غفلت کے باعث 22 سیاحوں کی موت پر حکمران جماعت تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ فوج کے اہلکاروں کی ریسکیو تصاویر شیئر کرتے ہوئے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بعض صارفین کے خیال میں فوج ہی آفات میں سامنے آتی ہے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ مری میں فوج کے چار کیمپ ہیں ان کو سیاحوں کی ہلاکتوں سے قبل ریسکیو آپریشن کرنا چاہیے تھا۔

تجزیہ کار رعایت اللہ فاروقی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ محکمہ موسمیات سرکاری ادارہ ہی ہے۔ وہ وارننگ جاری کرچکا تھا کہ چھ اور سات تاریخ کو شدید برفباری ہوگی۔ یہ وارننگ دیکھ کر سیاح جھوم اٹھے۔ سب نے طے فرما لیا کہ "برف دیکھنی ہے” گویا وارننگ کو دعوت نامے کا درجہ دیدیا گیا۔ اب ان میں سے جو پھنس گئے ہیں ان کا فرمانا ہے کہ یہ سب حکومت کی نااہلی ہے۔ مگر مری کے واقعے میں حکومت کے قصور کا اندازہ ان ہزاروں سیاحوں کی ضد سے لگایا جاسکتا ہے جو مری پہنچ نہ سکے ۔ وہ اب بھی مری کے داخلی راستوں پر کھڑے ضد فرما رہے ہیں کہ انہیں مری میں داخل ہونے دیا جائے۔ یعنی نصف سیاح وہ ہیں جو کہہ رہے ہیں ہمیں بچایا جائے۔ اور نصف وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں بھی برف میں قلفی بننے کا موقع دیا جائے۔ ایسے سیاحوں کو صرف پاگل خانوں والے ہی ریسکیو کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مری کنٹونمنٹ ہے۔ اسے کلیئر رکھنا فوج کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہماری فوج تو واقعے کا سانحہ بننے کا انتظار کرتی ہے۔ جب تک نوبت اس اعلان تک نہ پہنچ جائے کہ "پاک فوج کو طلب کرلیا گیا” یہ حرکت میں نہیں آتی۔ اس کے ذریعے قوم کو دو باتیں باور کرائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ دیکھا ہم ہی آخری حل ہیں۔ اور دوسری یہ کہ ہم طلب کیے بغیر نہیں آتے۔ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ طلب کیے بغیر یہ صرف وزیراعظم ہاؤس اور ٹی وی سٹیشن ہی پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہر جگہ طلب کیے جانے کا انتظار فرماتی ہے .

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے