مری واقعے کی انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کن سوالات کے گرد گھومے گی؟
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے مری کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد کئی اعلان اور فیصلے کیے گئے ہیں جن میں سے ایک پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کمیٹی کا قیام بھی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں تحقیقاتی قائم کی گئی کمیٹی آٹھ دن میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔
اس کمیٹی کے سامنے سات سوالات رکھے گئے ہیں جن کے جواب تلاش کیے جائیں گے۔
ٹرمز آف ریفرنس کے تحت پہلا سوال مختلف متعلقہ اداروں کی بحران کے حوالے سے آپس میں رابطے میں رہنے کا پوچھا گیا ہے۔
انکوائری میں پوچھے گئے آٹھ سوالات:
میٹ ڈیپارٹمنٹ کی موسمیاتی وارننگ کے باوجود جوائنٹ ایکشن پلان کیوں نہیں تیار کیا گیا؟
کیا تمام سیاحوں کے لئے لیے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی یا کوئی وارننگ دی گئی تھی؟
مری کی ٹریفک کو کو کنٹرول کرنے کے لئے لیے کیا اقدامات کیے گئے گئے ؟
کیا ٹریفک (گاڑیوں) کی تعداد کو گنا گیا اور جب گاڑیاں بڑھ گئیں تو ان کو روکا کیوں نہیں گیا ؟
کیا کرائسس کے لیے پلان ترتیب دیا گیا تھا؟ کیا کوئی کنٹرول روم بنایا گیا تھا؟
کیا مقامی ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے ساتھ امرجنسی سے نمٹنے کے لئے رابطہ قائم کیا گیا؟
ریسکیو آپریشن کتنی حد تک کامیاب رہا ؟کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا؟ اور اس سارے بحران میں کمی اور کوتاہی کن افسران کی تھی؟

