متفرق خبریں

کیا ڈالر 200 روپے کی نفسیاتی حد عبور کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے؟

اپریل 20, 2022

کیا ڈالر 200 روپے کی نفسیاتی حد عبور کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے؟

پاکستان کی کرنسی روپے کی قدر تیزی سے گر رہی ہے اور ڈالر کی قدر میں‌دو دن میں سوا تین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے کاروباری طبقے کو پریشان کر رکھا ہے.

کرنسی مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہوئی تھی اور معاشی ماہرین اس کو ملک میں سیاسی استحکام کا مثبت اعشاریہ قرار دے رہے تھے.

رواں ماہ کے اوائل میں ڈالر کے نرخ تیزی سے اوپر گئے تھے اور روپے کی قدر گری تھی تاہم تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے ساتھ ہی روپے کی قدر میں بہتری آئی اور یہ ڈالر کے مقابلے میں نو روپے مستحکم ہوا.

تاہم بدھ کو انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 48 پیسے کا اضافہ ہوا اور ایک ڈالر 185.92 روپے پر بند ہوا۔

معاشی ماہرین کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام کے فائنل نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی دیکھی جارہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافہ مصنوعی ہے اور اگلے کچھ دنوں‌میں روپے کی قدر مستحکم ہوگی.

انہوں نے جمعرات کو آئی ایم ایف حکام سے مذاکرات کے لیے بیرون ملک سفر کی بھی تصدیق کی. تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ رواں سال پاکستان نے 75 ارب ڈالر کی درآمدات کرنی ہیں جبکہ ملکی برآمدات صرف 30 ارب ڈالر کی ہوں گی جس کے باعث بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کی ضرورت پڑے گی.

بعض معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت جس بدحالی کا شکار ہے ڈالر مزید اوپر جائے گا اور روپے کی قدر گرے گی.

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 200 روپے کا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے