فلسطینی صحافی شیرین کا قتل، سخت ردعمل پر نیو یارک ٹائمز نے سرخی بدل دی
اسرائیلی فوج کی گولی کا نشانہ بننے والی فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کی آخری رسومات سرکاری سطح پر ادا کی گئیں اور ان کی خدمات کے پیش نظر قتل پر ریاست نے سوگ کا اعلان کیا۔
دنیا بھر میں الجزیرہ ٹی وی سے منسلک خاتون صحافی شیرین کے قتل کی مذمت کی جا رہی ہے۔
جمعرات کو فلسطین میں مقتول صحافی کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور ان کی تدفین ریاستی اعزاز کے ساتھ کی گئی۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس موقع پر اسرائیل کے اس بہیمانہ اقدام کی مذمت نہ کرنے پر بھی فلسطین میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس دوغلے پن کو آشکار کیا۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین نے عالمی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو شیرین کے قتل کی رپورٹنگ میں جانبداری برتنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔
نیویارک ٹائمز نے پہلے سرخی لگائی کی فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کا 51 برس کی عمر میں انتقال۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین نے مغربی میڈیا کی اسرائیل نوازی اور مسلمان و فلسطین دشمنی کو آشکار کیا تو اخبار نے دو گھنٹے بعد سرخی بدل دی۔
بعد ازاں نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ الجزیرہ کی شیرین ابو عاقلہ مغربی کنارے کے علاقے میں قتل۔

بدھ کو قتل کی گئی 51 سالہ شیرین ابو عاقلہ کے بارے میں ان کے ساتھی صحافیوں نے بتایا کہ مقتولہ نے اپنا کام بہترین طریقے سے کیا۔
ان کے مطابق تمام تر مشکلات، خطرات اور خوفناک حالات کا شیرین نے استقامت، صبر اور ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

