پارٹی پالیسی کے خلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا: سپریم کورٹ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ دے تو وہ شمار نہیں ہوگا جبکہ نااہلی کی معیاد کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔
منگل کو عدالت کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے دو مقابلے میں تین کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔
جسٹس مظہر عالم میاں اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے سے اختلافی رائے دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینا ہمارے لیے آئین دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے.
عدالتی فیصلے کے مطابق انحراف کرنا سیاسی جماعت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے.
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہو سکتا.

