پاکستان

فوجداری مقدمات پر اثرانداز ہونے کی مبینہ کوششیں، سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

مئی 18, 2022

فوجداری مقدمات پر اثرانداز ہونے کی مبینہ کوششیں، سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سرکاری استغاثہ افسروں کے حالیہ تبادلوں اور فوجداری مقدمات پر اثرانداز ہونے کی مبینہ کوششوں کی میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیا ہے۔

بدھ کی رات سپریم کورٹ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک جج کی سفارشات پر موجودہ حکومت کی اعلٰی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف فوجداری مقدمات میں پراسیکیوشن برانج کے آزادانہ کام میں مداخلت کا ازخود نوٹس لیا ہے۔

بیان کے مطابق خدشہ ہے کہ مبینہ مداخلت مقدمات میں استغاثہ پر اثرانداز ہونے اور پراسیکیوشن کے پاس موجود شواہد اور ثبوتوں کو مٹانے اور اہم عہدوں پر موجود افراد کے تقرر اور تبادلے کا سبب بن سکتا ہے۔

عدالت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسے اقدامات اور میڈیا میں نیب قوانین میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے آنے والی خبریں ملک کے فوجداری نظام انصاف پر اثرانداز ہونے اور بحثیت مجموعی معاشرے کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے اور ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی پر عوام کےاعتماد کو ختم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے