پاکستان

افغان طالبان کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے سامنے کیا شرائط رکھیں؟

مئی 19, 2022

افغان طالبان کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے سامنے کیا شرائط رکھیں؟

عظمت گل، صحافی. پشاور
پاکستان کی حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے مابین کابل میں مذاکرات کی افغانستان کی امارت اسلامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ثالثی کر رہے ہیں.

بدھ کو امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر تصدیق کی کہ کابل پر کنٹرول رکھنے والے طالبان افغانستان میں حکومتِ پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کر رہے ہیں.

اس سے قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے بھی اپنے چینل پر مذاکرات کے حوالے سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ فریقین کے مابین 30 مئی تک فائر بندی پر اتفاق ہوا ہے ـ جبکہ اس وقت ٹی ٹی پی جانب سے 30 اہم گرفتار کمانڈر ز کی لسٹ بھی دی گئی جن پرپاکستان کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا کہ ان کی رہائی پر غور سنجیدگی سے کیا جائے گا.

ترجمان ٹی ٹی پی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ثالثی امارت اسلامیہ کر رہی ہے جبکہ 32 افراد پر مشتمل محسود اور 16 افراد پر مشتمل ملاکنڈ کے جرگے سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں ـ

یاد رہے کہ ٹی ٹی پی نے عیدالفطر کے موقع پر دس روزہ فائربندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہوا اور فائربندی میں پانچ روز کی توسیع کر دی گئی تھی ـ اب جانبین اور ثالث کی تصدیق کے بعد یہ فائربندی مجموعی طور پر ایک ماہ تک رہے گی ـ

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں بھی مذاکراتی عمل شروع ہوا تھا، لیکن فریقین کی رضامندی کے بعد کامیاب نہیں ہو سکا.

طالبان ذرائع کے مطابق اس دفعہ دونوں جانب سے سنجیدہ اقدامات ہو رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں کیونکہ دونوں جانب سے نرم گوشہ ہے.

حالیہ مذاکرات ایک اہم وقت میں ہو رہے ہیں اور ان کی کامیابی کےلیے دو نوں فریق سنجیدہ ہیں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے