پاکستان

پاکستان میں جبری گمشدگی کی نئی لہر،ایک ہفتے میں سات افراد لاپتہ

جون 15, 2022

پاکستان میں جبری گمشدگی کی نئی لہر،ایک ہفتے میں سات افراد لاپتہ

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی نئی لہر کے دوران ایک ہفتے میں سات نئے لاپتہ افراد کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ابھی تک پرانے لاپتہ افراد کا کچھ اتہ پتہ نہیں چل سکا جبکہ آئے روز لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر) نے جبری گمشدگیوں کی تازہ ترین لہر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کی چئیرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا یوں لگتا ہے وار آن ٹیرر کے دوران جبری گمشدگی کا جو سلسلہ تھا وہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگوں ڈاکٹرز،سکول اساتذہ اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو اٹھایا جا رہا ہے لیکن وجوہات سامنے نہیں آ رہیں۔

ان کا کہنا تھا شاید حکومت یا اداروں پر تنقید کی پاداش میں لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ بلوچستان کے طلبا کو بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ کراچی واقعہ کے بعد یہ واقعات بڑھے ہیں۔ طلبا کو شک کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے تو پھر چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبا پسماندہ صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان طلبا کو ایسا ماحول فراہم کریں کہ یہ احسن طریقے سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

چئیرپرسن ڈی ایچ آر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد ایک حکومتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،کمیٹی کو مراسلہ بھی ارسال کیا لیکن تاحال کچھ نہیں ہوا۔ شاید اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ بھی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 17 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہے جہاں حکومت کو اس معاملے کے بارے میں جواب دینا ہے۔عدالت کا واضح حکم ہے کہ لاپتہ افراد کو پیش کیا جائے یا ریاست اپنی ناکامی کا جواز پیش کرے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ملک سے جبری گمشدگی کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سالہا سال سے ہماری جدوجہد جاری ہے اور اس مسئلے کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے