نکاسی کا ناقص نظام،اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں بارش عذاب بن گئی
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث گلیاں نہروں کا منظر پیش کرنے لگیں۔مکین سخت مشکلات کا شکار ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دیہی علاقوں میں سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے گندا پانی گلیوں کے دونوں اطراف یا وسط سے بہتا ہے۔ معمولی بارش ہونے کی صورت میں گلیاں پانی سے ڈوب جاتی ہیں اور مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دور میں یونین کونسل سوہان کے علاقہ پنڈوریاں میں مکینوں کے پرزور مطالبے پر سیوریج لائنیں ڈالنے کا کام شروع ہوا لیکن یہ ناقص منصوبہ بندی کا شاہکار تھا۔
وفاقی دیہی علاقہ کی مرکزی گلیوں میں سیوریج کی لائنیں ڈالی گئیں لیکن ان سے منسلک چھوٹی گلیوں کو نظرانداز کر دیا گیا جسکی وجہ سے سوہان کی نصف آبادی سے زائد آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سوہان میں سیوریج لائنیں ڈالنے کے دوران جن گلیوں کی کھدائی کی گئی تھی ان میں سے متعدد کو دوبارہ پختہ نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے مکین ایک مشکل سے نکلنے کے بعد دوسری مشکل میں مبتلا ہو گئے۔
علاقہ مکینوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی یونین کونسل سوہان میں سیوریج کے نظام کا دائرہ ساری آبادی تک پھیلایا جائے اور جن گلیوں کو لائنیں ڈالنے کے لئے اکھاڑا گیا تھا انہیں ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ پختہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی دیہی علاقے حکومتوں کے لئے کوڑے کباڑ کی طرح ہیں۔ اوّل تو ترقیاتی کام شروع ہی نہیں ہوتا اگر شروع ہو جائے تو فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر اسے مکمل تک نہیں کیا جاتا۔ ناقص منصوبہ بندی کا مظاہرہ ہوتا ہے جسے لوگوں کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

