اغوا کے بعد ارسلان خان رہا، سندھ رینجرز کا بیان شرمناک قرار
سندھ میں رینجرز نے کراچی کے سماجی کارکن ارسلان خان کو ان کے گھر سے اغوا کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان کو تنبیہہ کے بعد رہا کیا گیا ہے۔‘
جمعے کو لاپتا ہونے کے بعد ارسلان خان کی اہلیہ عائشہ ارسلان نے رینجرز پر گھر میں گھس کر اغوا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
سنیچر کو سندھ رینجرز کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ’رینجرز نے 24 جون کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کلفٹن کے علاقے سے ملزم محمد عامر ارسلان خان عرف اے کے فورٹی سیون کو ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ روابط کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔
پریس ریلیز کے مطابق ’ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے مذکورہ دہشت گروپ سے مالی معاونت لینے اور روابط کا انکشاف ہوا ہے۔‘
’واضح وائٹ کالر کرائم کی بنا پر مکمل تحقیقات کی غرض سے کیس متعلقہ اتھارٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے.
پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ’ملزم کو مستقبل میں ہونے والی تفتیش میں تعاون کرنے کی تنبیہہ کر کے رہا کر دیا گیا ہے۔
سنیچر کی صبح ارسلان خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’میں خیریت سے واپس گھر پہنچ گیا ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے آزمائش کی گھڑی میں میری فیملی کا ساتھ دیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں، میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔‘
رینجرز کی پریس ریلیز کا سوشل میڈیا صارفین مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کو ریاست کے اندر ریاست کی بدمعاشی قرار دے رہے ہیں جو کسی آئین و قانون کو نہیں مانتے۔

