پاکستان

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے ورثا 21 روز سے سراپا احتجاج

جولائی 16, 2022

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے ورثا 21 روز سے سراپا احتجاج

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جبری لاپتہ افراد کے ورثا 21 روز سے کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے لیکن ان کی آواز حکمرانوں تک نہیں پہنچ رہی۔

جبری لاپتہ عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ حمید کا بذریعہ ٹویٹ کہنا ہے کہ میرے بابا کی جبری گمشدگی کو 15 ماہ ہو چکے ہیں۔ہم اکیس روز سے دیگر لاپتہ افراد کے ورثا کے ہمراہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

میرے بابا سمیت دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ہمیں اس تکلیف سے نجات دلائی جائے تاکہ ہم معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکیں۔

واضح رہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی سالہا سال سے شہری لاپتہ ہیں اور تاحال یہ سلسلہ نہیں رک سکا،اب جبری گمشدگی کی نئی لہر کے دوران بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی رونما ہوُرہے ہیں۔

ورثا سالہا سال سے دہائی دے رہے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے۔ لوگوں کو اٹھانا،غائب کر دینااور ورثا کو آزاد کی صلیب پر لٹکا دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور کسی طور بھی روا نہیں،لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے