امید ہے آپ کی کُرسی محفوظ ہوگی، چیف جسٹس کا پیپلز پارٹی کے وکیل سے مکالمہ
پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست شروع ہوئی تو کمرہ عدالت میں سپریم کورٹ کے وکلا کی تنظیم کے پانچ سابق صدر روسٹرم پر کھڑے تھے۔
پیر کو مقدمے کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ کئی سینیئر وکلا اور بار کے سابق صدور کھڑے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی کے سابق صدر عبداللطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ ٹینشن بہت ہے اور بحران بہت گہرا ہے۔ اس لیے استدعا ہے کہ تمام فریقین کو سُنا جائے اور اس کی سماعت فُل کورٹ کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم ہے کہ یہ مقدمہ عدالتی فیصلے سے منسلک ہے اس لیے تمام فریقین کو سُنیں گے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔
سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون نے بتایا کہ وہ کوئی دباؤ ڈالنے نہیں آئے اس لیے سینیئر اور بزرگ وکیل عبداللطیف آفریدی کو روسٹرم پر کھڑا کیا کہ وہ بولیں۔ چاہتے ہیں کہ عدالت بار کی درخواست بھی سُنے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اتنی جلدی کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ وہ بھی بار کے سابق صدر ہیں اور انہوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ بار اس طرح فریق بنی ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب لوگ اس معاملے کی سنجیدگی اور اہمیت کی جانب توجہ دلانے کے لیے عدالت آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم نہایت دلچسپ عہد سے گزر رہے ہیں۔”
اس کے بعد پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک پیش ہوئے اور بتایا کہ انہوں نے درخواست دائر کی ہے اس کو نمبر لگا کر سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے، سب کو سننا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مقدمہ سیٹ اپ تو کرنے دیجیے۔
چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے کہا کہ وہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں اور امید ظاہر کی کہ اُن کی کرسی محفوظ ہوگی۔
اس پر فاروق نائیک نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کُرسی کا کیا ہے وہ تو آنی جانی شے ہے انسان کو اپنے قدموں پر پکا رہنا چاہیے۔ بڑی بڑی کُرسیاں دیکھیں اور اُن پر بیٹھا رہا۔

