عالمی خبریں

اٹلی کے ساحل پر پناہ گزینوں کی کشتی غرقاب، 59 ہلاک

فروری 26, 2023

اٹلی کے ساحل پر پناہ گزینوں کی کشتی غرقاب، 59 ہلاک

اٹلی کے جنوبی علاقے کالاباریا کےساحلی شہر کروٹون کے قریب پناہ گزینوں کی ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 30 تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔

اتوار کو اطالوی میڈیا نے بتایا کہ حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے اور اس میں سمندر کی طوفانی لہریں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

ایک امدادی کارکن نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ مرنے والوں میں چند ماہ کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔

امدادی کارکن نے بتایا کہ تارکین وطن کی کشتی میں بہت زیادہ افراد سوار تھے جو سمندر میں طغیانی باعث اُلٹ گئی۔
اطالوی کوسٹ گارڈز نے اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر حادثے پر تبصرے سے انکار کیا۔

کشتی کا یہ حادثہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کچھ ہی دن قبل اٹلی کی دائیں بازو کی سخت گیر حکومت نے تارکین وطن کو بچانے کے ایک متنازع نئے قانون کے مسودے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والی صدر جارجیا میلونی نے گزشتہ برس اکتوبر میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ ان کی جماعت نے ووٹرز کے سامنے اپنے منشور میں غیرقانونی تارکین وطن کے بہاؤ کو اٹلی ساحل پر آنے سے روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

نئے قانون کے تحت امدادی کارکن ایک وقت میں تارکین وطن کی متاثرہ کشتیوں میں سے صرف ایک کو بچانے کوشش کریں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد وسطی بحیرہ روم میں ڈوبنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

یورپ میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے اس راستے کو دنیا کی سب سے خطرناک کراسنگ سمجھا جاتا ہے۔

تنازعات اور غربت سے فرار ہونے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد افریقہ سے اٹلی کے راستے یورپ میں بہتر زندگی کی اُمید کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے