پاکستان

لوگ من پسند ججز سے فیصلے کرانا چاہتے ہیں: چیف جسٹس

اپریل 3, 2023

لوگ من پسند ججز سے فیصلے کرانا چاہتے ہیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے دو صوبوں میں الیکشن کرانے کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ لوگ من پسند ججز سے فیصلے کرانا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کسی نے ایسا نہیں کہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چھ ججز والی بات آپ نے اور عرفان قادر نے کی، عدالت نے بات سنی اس پر ردعمل نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملے میں وزارت دفاع اور وزارت خزانہ کی وجوہات بھی دیکھیں گے۔

قبل ازیں‌صوبوں میں الیکشن کرانے کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے سیکریٹری خزانہ سے کئی سوال کیے ہیں۔

عدالت کو ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ 170ارب روپے جمع کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگائے گئے۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کھربوں روپے کا بجٹ ہے الیکشن کے لیے 20 ارب روپے دینے سے بجٹ پر کتنے فیصد فرق پڑے گا۔

جسٹس منیب نے کہا کہ وزیر خزانہ کا بیان تھا کہ فروری میں 500 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع ہوا، عدالت کو اندازہ ہے کہ بجٹ خسارہ ابھی موجود ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر حکومت کا خسارہ 157ارب روپے تھا، خسارہ 177 ارب ہوجاتا تو کیا ہوجاتا۔

ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ خسارہ طے ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا تنخواہوں میں کمی نہیں کی جا سکتی؟ ججز سے تنخواہیں کم کرنا کیوں شروع نہیں کرتے، قانونی رکاوٹ ہے تو عدالت ختم کردے گی، پانچ فیصد تنخواہ تین اقسام میں کاٹی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بھی اخراجات کم کرنے کا کہیں گے، کون سا مالی امور کا ماہر عدالت کو بریف کرے گا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ اگر عدالت ذہن بنا چکی اور فیصلہ کر چکے ہیں تو بتا دیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے دلائل میں کہا کہ اگر جج پر اعتراض ہو تو وہ بنچ سے الگ ہو جاتے ہیں۔

عرفان قادر نے کہا کہ ایک طرف ایک جماعت دوسری طرف تمام جماعتیں ہیں، بنچ سے جانبداری منسوب کی جا رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ پوری پی ڈی ایم ماضی میں بھی فل کورٹ کا مطالبہ کر چکی ہے، فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے۔

عرفان قادر نے کہا:
پتہ پتہ بوٹا بوٹا باغ تو سارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

عرفان قادر نے کہا کہ عدالت پر عدم اعتماد نہیں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، عدالت کا ایک فیصلہ پہلے ہی تنازع کا شکار ہے، اس وقت انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔

عرفان قادر نے کہا کہ اُن کی نظر میں انصاف نہیں ہو رہا، ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو، الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہیے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ فیصلہ تین دو کا تھا یا 4/3 کا اس پر بات ہونی چاہیے۔

عرفان قادر کے مطابق نو میں سے 4 ججز نے درخواستیں خارج کیں، تین ججز نے حکم جاری کیا، یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے، سرکولر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس اپنے سرکولر پر خود جج نہیں بن سکتے۔

عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی تحلیل درست تھی یا نہیں، وزیراعلی پرویز الٰہی کی آڈیو لیک آئی جو فواد چوہدری سے متعلق تھی، پرویز الٰہی نے کہا کہ فواد چوہدری پہلے گرفتار ہوتے تو اسمبلی نہ ٹوٹتی۔

عرفان قادر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نہ وزیر اعلی نے توڑی نہ گورنر نے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کو پانچ رکنی بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

عرفان قادر کے مطابق مناسب ہوتا شفافیت کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو بینچ میں شامل نہ کیا جاتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو سوچ کر بینچ بنایا وہ وجہ بتانے کا پابند نہیں ہوں۔

عدالت میں الیکشن کے لیے سکیورٹی کے حوالے سیکریٹری دفاع نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ کچھ حصے حساس نہیں جن کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریزرو فورس کی طلبی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، اور ریزرو فورس کی تربیت بھی کی جاتی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے