پاکستان

وکلا تنظیموں کا اعلامیہ، سپریم کورٹ کے 8 رُکنی بینچ کے خلاف یومِ سیاہ

اپریل 18, 2023

وکلا تنظیموں کا اعلامیہ، سپریم کورٹ کے 8 رُکنی بینچ کے خلاف یومِ سیاہ

جہانزیب عباسی . اسلام آباد
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت ملک بھر کی بار کونسلز نے مشترکہ اعلامیے میں حالیہ سیاسی بحران کے دوران سپریم کورٹ کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وکلاء برادری گزشتہ دو دہائیوں سے چیف جسٹس کے اختیارات ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

وکلا تنظیموں کے عہدیداروں کے اجلاس کے بعد جاری کیے بیان کے مطابق وکلاء برادری گزشتہ 20 برس سے آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل کے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق وکلاء برادری مسلسل پارلیمنٹ سے بھی قانون سازی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے ذریعے قانون سازی وکلاء کے مسلسل مطالبے کے تحت کیا۔

اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 بل سے مفاد عامہ اور عدلیہ کی آزادی حاصل ہوگی، سینیئر ججز نظر انداز کرکے اپنی مرضی کے ججز کا بنچ بنا کر چیف جسٹس نے مجوزہ قانون سازی کو معطل کردیا۔

وکلا نمائندوں کے بیان میں کہا گیا کہ جن آٹھ ججز نے مجوزہ قانون سازی کو معطل کیا ان میں سے چھ ججز کی تعیناتیوں پر سوالیہ نشان ہے۔
وکلا تنظیموں کے نمائندوں کے اعلامیے کے مطابق مجوزہ قانون سازی معطل کرنے والے بینچ میں شامل چھ ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی سینیارٹی اصول کے برخلاف ہوئی، اور یہ کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو معطل کرنے کے فیصلے کو وکلاء برادری تسلیم نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں وکلا کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا، جس میں ریٹائرڈ فوجی افسران کو بٹھا کر پریس کانفرنس کرنے سے آئینی عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریو واپس لینے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست پر چیف جسٹس کے فیصلہ جاری نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

وکلا نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کرکے پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات کا انعقاد کرانے کیلئے اتفاق رائے پیدا کریں، سیاسی بحران کا حل سیاست دان ہی نکال سکتے ہیں عدلیہ نہیں۔

اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست دانوں کو سیاسی بحران کا حل نکالنے دے، عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو معطل کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اگر مجوزہ قانون سازی معطل کرنے کا فیصلہ واپس نہ کیا تو پورے ملک میں جمہوریت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تحریک چلائیں گے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو معطل کرنے کے خلاف منگل کو پورے ملک میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے