پاکستان

نظرثانی درخواستیں مقرر نہ کر کے ہیرا پھیرا کرنے کو عدالت تسلیم کرتی ہے: سپریم کورٹ

نومبر 16, 2023
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

نظرثانی درخواستیں مقرر نہ کر کے ہیرا پھیرا کرنے کو عدالت تسلیم کرتی ہے: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ یہ عدالت فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر دائر نظرثانی درخواستوں کو بروقت سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے کی ہیرا پھیری کو تسلیم کرتی ہے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب دوسروں کے لیے ایک مثال قائم کرنا ہے اور تسلیم کر کے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
چیف جسٹس کے تحریری حکمنامے کے مطابق ‘سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے اور اداروں کو مضبوط بناتی ہے۔ ماضی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔’

سپریم کورٹ کے مطابق پاکستان کے لوگ اس سے کم کسی چیز کے مستحق نہیں۔ اداروں پر عوام کا عدم اعتماد آمریت کی طرف لے جاتا اور جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 15 نومبر کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019کو دیا.

عدالتی فیصلے میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دیکر مستقبل کیلئے وارننگ دی گئی، تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا.

فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کیلئے مقرر نہ کیا.نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا.

حکمنامے کے مطابق فیض آباد دھرنا فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پر تشدد احتجاج پر احتساب ہوا،
نتیجتاً قوم کو 9مئی کے واقعات دیکھنے پڑے.

حکمنامے کے مطابق شیخ رشید کے وکیل نے کہا میں نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں. عدالت نے بار بار پوچھا درخواست دائر کیوں کی، چار سال آٹھ ماہ تک التوا رہا.

شیخ رشید کے وکیل نے جواب دیا غلطی فہمی کے سبب نظرثانی دائر کی، تعجب ہے ایسا سیاست دان جو طویل عرصہ تک رکن پارلیمنٹ رہا اسے غلط فہمی ہوگئی.

تعجب ہے ایسا سیاست دان جو وفاقی وزیر جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہا اس نے غلطی فہمی کے سبب نظرثانی درخواست دائر کی، عدالت نے یہ بھی پوچھا کیا شیخ رشید نے نظرثانی درخواست کسی کے کہنے پر دائر کی.

جواب دہرایا گیا نظرثانی درخواست غلطی فہمی کی بنا پر دائر کی.

فیض آباد دھرنا نظر ثانی درخواستیں طویل وقت تک کیوں سماعت کیلئے مقرر نہ ہوئیں؟ عدالتی حکمنامے میں نیا انکشاف سامنے آیاہے.

حکمنامے کے مطابق نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے پر متعلقہ عدالتی حکام سے پوچھا گیا،ایڈیشنل رجسٹرار فیکچر اور ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے اپنی رپورٹس دیں.

رپورٹس کے مطابق 25 اپریل 2019کو نظرثانی درخواستیں فائنل کاز لسٹ کے ڈرافٹ میں دن ایک بج کر بارہ منٹ پر شامل ہوئیں.

اسی دن شام پانچ بج کر چھ منٹ پر فیض آباد دھرنا فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں فائنل کاز لسٹ سے نکال دی گئیں.

عدالتی حکمنامے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 25 اپریل 2019کو محض پانچ گھنٹے بعد نظرثانی درخواستیں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر کاز لسٹ سے نکال دی گئیں.

عدالتی عملے کے مطابق نظرثانی درخواستیں وقت فوقتاً مختلف چیف جسٹس صاحبان کے سامنے رکھی جاتی رہیں.

عدالتی سٹاف کے مطابق تینوں ماضی کے چیف جسٹس صاحبان نے نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے کوئی ہدایات نہیں دیں.

دوسروں کے لیے مثال قائم کرنے کیلئے یہ عدالت سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ کرکے ساز باز کی،عدلیہ ایسی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائے گی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے