سُپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف دائر شکایات کیا ہیں؟
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایات سننے والے سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز اسحاق خان کے خلاف کارروائی کا آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جسٹس اعجاز اسحاق کے خلاف دو ماہ کے عرصے میں دائر ہونے والی شکایات کچھ اس طرح ہیں کہ21 اکتوبر 2025 کو مرکزی جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت نے شکایت دائر کی۔
شکایت کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مقدس ہستیوں کے خلاف آن لائن چلائی جانے والی مہم کو تحفظ دیا،اور توہین کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی روکنے کی کوشش کی۔
اس سے قبل دائر کی گئی شکایت میں 19ستمبر 2025 کو وکیل محمد وقاص ملک نے شکایت دائر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز اسحاق نے ذاتی عناد اور تعصب کی بنیاد پر فیصلے دیے۔ مریم فیاض کیس میں 3 سال تک فیصلہ محفوظ رکھ کر عدالتی حلف کی خلاف ورزی کی جب کہ ’کٹ اینڈ ویلڈ گاڑیوں‘ کیس کا فیصلہ بھی غیرمعمولی تاخیر کا شکار رہا جس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔
شکایت کنندہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالی، ساتھی ججوں کے ساتھ گروپ بنا کر عدالتی امور کو متاثر کیا، چیف جسٹس اور دیگر ججز کے خلاف محاذ آرائی کی، بطور جج پرائیویٹ لا فرم چلاتے ہوئے عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔
الزام لگاتے ہوئے شکایت کنندہ نے استدعا کی کہ جسٹس اعجاز اسحاق مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے اس لیے عہدے سے ہٹایا جائے۔

